بھارتی چاول پر امریکی ٹیرف پاکستان کیلئے نئی راہیں کھل گئیں

اسلام آباد (بیوروچیف) امریکا کی جانب سے بھارتی باسمتی چاول پر بھاری ٹیکس عائد ہونے سے پاکستانی برآمدات کو نمایاں فائدہ پہنچنے کا امکان ہے۔ذرائع کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے بھارتی مصنوعات بشمول باسمتی چاول پر 50 فیصد محصول عائد کیے جانے سے امریکا میں تجارتی بہا کی سمت بدل گئی ہے، جس نے پاکستان کو امریکی چاول کی مارکیٹ میں اپنا حصہ بڑھانے کا موقع فراہم کیا ہے۔پاکستان کے باسمتی چاول کی برآمدات میں حالیہ برسوں میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے۔رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ریپ) کے مطابق مالی سال 2024 میں پاکستان نے تقریبا 7 لاکھ 72 ہزار 725 ٹن باسمتی چاول برآمد کیے، جن سے 876 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا، جو پچھلے مالی سال کے 5 لاکھ 95 ہزار 120 ٹن (مالیت 650 کروڑ 40 لاکھ ڈالر) سے کہیں زیادہ ہے, فی ٹن اوسط برآمدی قیمت بھی 1 ہزار 92 ڈالر سے بڑھ کر 1 ہزار 134 ڈالر تک پہنچ گئی۔گلوبل ٹریڈ پلیٹ فارم وولزا کے اعداد و شمار کے مطابق نومبر 2023 سے اکتوبر 2024 کے دوران امریکا، پاکستان کی کل باسمتی برآمدات کا 24 فیصد حصہ رہا جو 1 ہزار 519 شپمنٹس پر مشتمل تھا۔اس کے بعد اٹلی 14 فیصد (908 شپمنٹس) اور برطانیہ 11 فیصد (716 شپمنٹس) کے ساتھ دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے، مجموعی طور پر یہ تینوں مارکیٹیں پاکستان کی باسمتی چاول کی برآمدات کا تقریبا 49 فیصد استعمال کرتی ہیں۔پاکستان اس وقت 110 سے زائد ممالک کو باسمتی چاول برآمد کر رہا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں