بھارت نے دریائے جہلم میں بھی پانی چھوڑ دیا

لاہور/ جھنگ /اسلام آباد (بیووچیف) ستلج راوی اور چناب کے بعد بھارت نے دریائے جہلم میں بھی ایک بار پھر پانی چھوڑ دیا خوشاب کو خطرہ جھنگ میں بڑا ریلا داخل شہرکے تاریخی پل کے قریب شگاف ڈال دیا گیا لاہور میں ہیڈ بلوکی کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا ریکارڈ سیلاب لاہورکی کئی مضافاتی بستیاں بدستور زیر آب اموات بڑھ کر 25 ہوگئیں15 لاکھ شہریوں کا انخلا قصور میں شہری چھتوں پر پناہ لینے پر مجبور ملتان میں بھی صورتحال خطرناک سیالکوٹ میں پانی گھروں میں داخل ایئر پورٹ بند چنیوٹ میں سطح آب بلند ہوگئی پنجاب بھرکے 1769 دیہات ڈوب گئے لائیو اسٹاک کوبھی شدیدنقصان پہنچاہے جھنگ چنڈ ریلوے ایمبنکمنٹ پر شگاف ڈال کرجھنگ پل سے گزرنے والے 4 لاکھ 96 ہزار کیوسک پانی میں سے 1 لاکھ سے ڈیڑھ لاکھ کیوسک پانی کو موڑ دیا گیا۔ سیلابی ریلے کا رخ موڑنے سے25سے 30 دیہاتوں کو محفوظ کیا گیا۔ دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا میں سیلاب گزشتہ تین دہائیوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیااین ڈی ایم اینے تینوں مشرقی دریائوں میں موجود شدید سیلابی صورتحال کے باعث نشیبی دریائے سندھ میں بھی شدید سیلابی صورتحال کے خطرہ کا انتباہ جاری کیا ہے۔نشیبی اور دریائی علاقے خطرے میں ہیں اوور فلو، بند ٹوٹنے اور علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے این ڈی ایم اے نے گوجرانوالہ، لاہور اور گجرات ڈویژن کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں اگلے 12 سے 18 گھنٹوں کے دوران شدید بارشوں کا امکان ظاہر کیا ہے۔ادھروزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز دوسرے دن بھی سرگرم رہیںسیلابی صورتحال کا خود جائزہ لینے کیلئے سیالکوٹ اور وزیر آباد کے دورے کیے۔ تفصیلات کے مطابق بھارت نے دریائے جہلم میں بھی پانی چھوڑدیا جہلم دریا میں پانی کی سطح مسلسل بڑھ رہی ہے اور دریا میں نچلے درجے کا سیلاب ہے۔جہلم دریا میں اوڑی ڈیم سے چھوڑے گئے سیلابی پانی کا بڑا ریلا دومیل مظفرآباد کے مقام سے گزر رہا ہے۔ایس ڈی ایم اے نے بتایا ہے کہ دریائے جہلم میں آنے والے اس پانی کو اگر منگلا ڈیم میں اسٹور نہ کیا جا سکا تو دریائے چناب میں صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔ اگر بھارت کی جانب سے جہلم دریا میں زیادہ پانی چھوڑ دیا گیا تو آزاد کشمیر کے ساتھ پاکستان کے دریائے جہلم کے نزدیک آباد شہروں اور دیہات کو بھی سیلاب کا خطرہ ہو سکتا ہے۔ پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق راوی، چناب اور ستلج میں شدید طغیانی سے 14 لاکھ 60 ہزار سے زائد افراد متاثر اور 1692 موضع جات زیرِ آب آ چکے ہیں۔پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ پنجاب میں سیلاب کے باعث اب تک 25 اموات ہوچکی ہیں اور خدشہ ہے کہ متاثرین کی تعداد میں مزید اضافہ ہوگا جب تک یہ پانی سندھ میں داخل نہیں ہوتا پنجاب ہائی الرٹ پر ہے اور سندھ حکومت کو پہلے ہی آگاہ کر دیا گیا ہے ۔ اب تک 2 لاکھ 65 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ چناب میں991دیہات ڈوب گئے جبکہ سیالکوٹ میں 395، جھنگ میں 127، ملتان میں 124، چنیوٹ میں 48، گجرات میں 66، خانیوال میں 51، حافظ آباد میں 45، سرگودھا میں 41، منڈی بہائوالدین میں 35اور وزیرآباد میں 19 دیہات متاثر ہوئے۔بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے اور شدید بارشوں کے باعث دریائے راوی، چناب اور ستلج بپھر گئے جس کے باعث سیلاب نے پنجاب میں تباہی مچا دی، کئی اضلاع زیر آب آگئے اور کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں جبکہ مال مویشی سیلاب کی نذر ہوگئے۔پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق جھنگ شہر کو بچانے کے لیے دریائے چناب میں سیلاب کے پیش نظر رواز پل کے قریب شگاف ڈال دیا گیا۔لاہور کا مضافاتی علاقہ موہلنوال بھی زیر آب آ گیا، کئی ہاوسنگ سوسائٹیوں میں داخل ہو چکا ہے۔ڈپٹی کمشنر لاہور موسی رضا کا کہنا ہے کہ دریائے راوی میں اس وقت دو لاکھ 11 ہزار کیوسک کا ریلا گزر رہا ہے، اگلے 10 گھنٹوں میں پانی کے بہائو میں مزید کمی آئے گی۔دوسری جانب راوی کے بپھرنے سے لاہور کے اطراف کئی دیہات زیر آب آگئے جبکہ چند مضافاتی علاقوں میں بھی پانی داخل ہوا۔تھیم پارک، موہلنوال، مرید وال، فرخ آباد، شفیق آباد، افغان کالونی، نیو میٹر سٹی اور چوہنگ ایریا سے محفوظ انخلا مکمل کر لیا گیا۔پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق دریائے چناب میں بڑا سیلابی ریلا چنیوٹ، جھنگ اور تریموں کی طرف بڑھ رہا ہے۔دریائے چناب مرالہ کے مقام پر پانی کا بہاو 1 لاکھ 16 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا اور خانکی ہیڈ ورکس کے مقام پہ پانی کا بہاو 1 لاکھ 84 ہزار کیوسک ہے۔ قادر آباد کے مقام پہ پانی کا بہائو 1 لاکھ 85 ہزار کیوسک ہے۔ چنیوٹ برج پر بڑا سیلابی ریلا گزر رہا ہے، دریائے چناب میں چنیوٹ برج کے مقام پر پانی کا بہائو 8 لاکھ 55 ہزار کیوسک ہے۔بلوکی ہیڈ ورکس پر پانی کا بہائو 1 لاکھ 64 ہزار کیوسک ہے اور اضافہ ہو رہا ہے۔ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کا بہائو 3 لاکھ 3 ہزار کیوسک ہے اور بہائو میں اضافہ ہو رہا ہے۔صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل عرفان علی کاٹھیا نے کہا ہے کہ انڈیا کی جانب سے مادھوپور ہیڈ ورکس سے مسلسل 80 ہزار کیوسک پانی آرہا ہے، جو لاہور شاہدرہ سے گزر کر آگے چنیوٹ اور پھر ریواز برج تک پہنچے گا۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق پچھلے چار روز سے قصور کے قریب دریائے ستلج میں دو لاکھ سے زائد کیوسک پانی کا بہاو جاری ہے جس کے باعث سلیمانکی کے مقام پر صورتحال خطرناک ہوتی جا رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں