12

بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے (اداریہ)

پاکستان نے عالمی سطح پر پانی کی قلت سے متعلق اقوام متحدہ کے اجلاس میں کہا ہے کہ بھارت نے 1960 کے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کر کے پاکستان کی آبی سلامتی اور علاقائی استحکام کے لیے غیر معمولی بحران پیدا کر دیا ہے۔ یہ بات اقوام متحدہ میں پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب عثمان جدون نے گزشتہ روز اقوام متحدہ یونیورستی (UNO) اور اقوام متحدہ میں کینیڈا کے مشن کے اشترکا سے منعقدہ گول میز مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے کہی، انہوں نے کہا یہ قدری عمل نہیں بلکہ ایک ریاست دانستہ طور پر پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے، انہوں نے کہا کہ بھارت کے اس اقدام کے بعد سندھ طاس معاہدے کی سنگین خلاف ورزیاں سامنے آئیں جن میں زیریں علاقوں میں پانی کے بہائو میں بغیر اطلاع رکاوٹیں اور آبی معلومات میں فراہمی روکنا شامل ہے پاکستانی مندوب نے واضح کیا کہ پاکستان کا موقف بالکل واضح ہے یہ معاہدہ قانونی طور پر اب بھی برقرار ہے اور اس میں کسی قسم کی یکطرفہ معطلی یا ترمیم کی اجازت نہیں دی گئی یہ اجلاس اقوام متحدہ کے محققین کی جانب سے جاری کی گئی اہم رپورٹ گلوبل واٹرینکرپسی کے بعد منعقد ہوا جس میں عالمی آبی ایجنڈے کو ازسرنو ترتیب دینے پر زور دیا گیا ہے کیونکہ ناقابل تلافی نقصان کے باعث کئی آبی ذخائر شدید دبائو کا شکار ہو چکے ہیں دریائے سندھ سے سیراب ہونے والے علاقے دنیا کے سب سے بڑے مربوط آبپاشی نظاموں میں ایک کو سہارا دیا ہے، پاکستان کی زرعی ضروریات کے لیے 80فی صد سے زائد پانی فراہم کرتا ہے اور 240 ملین سے زائد افراد کی زندگی اور روزگار کا ذریعہ ہے پاکستانی مندوب نے کہا کہ دہائیوں پر محیط یہ معاہدہ پانی کے منصفانہ اور قابل اعتماد انتظام کا فریم ورک فراہم کرتا رہا ہے انہوں نے کہا کہ ہم ایک نیم خشک، ماحولیاتی تبدیلیوں سے متاثر’ زیریں دریا کے کنارے واقع ملک ہیں جہاں سیلاب’ خشک سالی’ گلیشیئرز کے پگھلنے میں تیزی’ زیرزمین پانی کی کمی اور تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی پہلے سے دبائو کا شکار آبی نظام پر مزید بوجھ ڈال رہی ہے، انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی جانب سے مربوط منصوبہ بندی’ سیلاب سے تحفظ’ آبپاشی کے نظام کی بحالی زیرزمین پانی کی افزائش اور ماحولیاتی نظام کی بحالی کے ذریعے آبی استحکام کو مضبوط بنا رہا ہے جن میں لیونگ انڈس اور ریچارج پاکستان جیسے منصوبے شامل ہیں تاہم انہوں نے زور دیا کہ مشترکہ دریائی نظاموں میں آبی خطرات کا حل صرف قومی اقدامات سے ممکن نہیں سرحد پار آبی نظم ونسق میں پیشگی معلومات’ شفافیت اور تعاون زیریں علاقوں میں بسنے والی آبادیوں کی بقا کے لیے ناگزیر ہیں رواں سال ہونے والی اقوام متحدہ کی آبی کانفرنس سے قبل پاکستانی مندوب نے اس بات پر زور دیا کہ پانی کے عدم تحفظ کو ایک عالمی اور منظم خطرے کے طور پر تسلیم کیا جائے، بین الاقوامی آبی قوانین کے احترام اور تعاون کو مرکزی حیثیت دی جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کئے گئے وعدے کمزور زیریں علاقوں کی حقیقی حفاظت میں تبدیل ہوں،، اقوام متحدہ کے اجلاس میں پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب عثمان جدون کا اقوام متحدہ میں کینیڈا کے اشتراک سے منعقدہ گول میز مباحثے میں بھارت کی طرف سے 1960ء کے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے اور پانی کو پاکستان کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کرنے پر خطاب کرتے ہوئے اپنا موقف عالمی سطح پر پیش کر کے بھارت کی ڈھٹائی کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدہ قانونی طور پر اب بھی برقرار ہے اس میں کسی قسم کی یکطرفہ معطلی کا کوئی جواز نہیں اس سلسلہ میں عالمی سطح پر اس کا نوٹس لیا جانا چاہیے بھارت پاکستان کا ازلی دشمن ہے اور سازشوں کے ذریعے پاکستان پر مختلف قسم کے الزامات عائد کر کے اپنی دشمنی ظاہر کرتا آ رہا ہے معرکہ حق میں پاکستان سے شکست کھانے کے بعد بھارت نے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا شروع کر دیا ہے جو اسکی بدنیتی ہے پاکستانی مندوب نے دنیا کو اس کا چہرہ دکھا دیا کہ بھارت عالمی سطح پر ہونے والے معاہدوں کی پاسداری نہیں کر رہا جس کا اقوام متحدہ کی نوٹس لیکر اسے یکطرفہ اقدامات سے باز رکھا جائے پاکستانی مندوب کی طرف سے صورتحال واضح کرنے کے بعد اقوام متحدہ کو اس مسئلہ کے حل پر فوری توجہ دینی چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں