1

بھارت کا جنگی جنون ‘دفاعی بجٹ میں بڑا اضافہ (اداریہ)

آپریشن سندور میں پاکستان کے ہاتھوں بری طرح شکست سے دوچار ہونے کے بعد بھارت ایک بار جنگی جنون میں مبتلا دفاعی بجٹ میں بڑا اضافہ کر دیا مجموعی دفاعی بجٹ سات ہزار 850 ارب بھارتی روپے مقرر کیا گیا ہے جو گزشتہ سال کے چھ ہزار 810 ارب بھارتی روپے سے تقریباً 15فی صد زیادہ ہے یہ اضافہ مئی 2025ء میں پاکستان کے ساتھ مختصر جنگ میں شکست کے بعد بھارت کی فوجی تیاری اور جدید ہتھیاروں کی خریداری پر زور دینے کی حکومتی پالیسی کی نشاندہی کرتا ہے دفاعی بجٹ میں خصوصی توجہ دفاعی سرمایہ کاری خرچ پر دی گئی ہے جو گزشتہ سال ایک ہزار 800 ارب بھارتی روپے سے بڑھ کر اس سال دو ہزار 310 ارب بھارتی روپے تک پہنچ گئی ہے یعنی اس میں 28فی صد کا اضافہ ہوا ہے بھارت کی وزیرخزانہ نرملایتار من نے بجٹ تقریر میں بتایا کہ فوج کی جدت کاری کیلئے دو ہزار ارب بھارتی روپے مختص کئے گئے ہیں جو پچھلے سال کے مقابلے میں 21.84 فی صد زیادہ ہیں روزمرہ فوجی اخراجات جیسے ایندھن’ گولہ بارود’ مرمت اور عملے کی تنخواہوں کیلئے مختص رقم میں بھی 17.24 فی صد اضافہ کیا گیا ہے جبکہ فوجی پنشن کے لیے مختص بجٹ ایک ہزار 710 بھارتی روپے تک بڑھایا گیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت خطے میں طاقت کا توازن خراب کرنے پر تُل گیا ہے دفاعی بجٹ میں بڑا فیصلہ کرنا بھارت کی حکمران جماعت کے اندر کے خوف کا پتہ دیتا ہے کہ پاکستان کے ساتھ مختصر جنگ میں بھارت کو جو شکست ہوئی وہ اس کیلئے سوہان روح بنی ہوئی ہے اور بھارتی حکمران اپنی شکست سے اپنی عوام کی توجہ ہٹانے کیلئے دفاعی بجٹ میں اضافہ کرنے کا کھیل کھیل رہے ہیں تاکہ عوام کو بتایا جا سکے کہ بھارت کو دفاعی طور پر مزید مضبوط بنانے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں’ بھارتی حکمران جماعت نے مظلوم کشمیریوں کی جو بددعائیں لی ہیں اس کی وجہ سے بھارت کو پاکستان کے ساتھ جنگ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا پاکستان سے زیادہ عسکری قوت رکھنے والے بھارت کی دفاعی لائن ریت کی دیوار ثابت ہوئی وہ جتنا مرضی دفاعی بجٹ بڑھاتا ہے مگر پاکستان کے آگے اب اسکی ایک نہیں چلے گی، بھارت نے متعدد بار پاکستان کو سازشوں کے ذریعے عالمی طور پر بدنام کرنے کی کوششیں کیں مگر اس کی تمام کوششیں ناکامی سے دوچار ہوئیں حالیہ سازش جس میں پاکستان پر بے بنیاد الزامات لگا کر سندھ طاس معاہدے کو معطل کر کے جنگ کی صورتحال پیدا کر دی تھی پاکستان نے بھارت کے آپریشن سندور کو تہس نہس کر دیا جس پر عالمی طور پر پاکستان کی تعریفیں ہوئیں اور بھارت اپنا سا منہ لیکر رہ گیا،، بھارت میں بی جے پی حکومت کی طرف سے 5اگست 2019ء کو بندوق کی نوک پر دفعہ 370 اور 35-A کی غیر قانونی منسوخی کے بعد مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی اور مظالم میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا کشمیر میڈیا سروس کے شعبہ تحقیق کی طرف سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 5 اگست 2019ء کے بعد اب تک مظالم جاری ہیں 22خواتین’ 45بچوں سمیت 1050 کشمیریوں کو شہید کیا گیا جن میں سے 387 کو جعلی مقابلوں میں یا دوران حراست شہید کیا گیا بھارتی سکیورٹی فورسز نے 1168 رہائشی مکانات اور دیگر عمارتوں کو تباہ کیا 139 خواتین کی بے حرمتی کی گئی بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت میں کشمیریوں پر مظالم کے پہاڑ توڑے گئے، جنگی جنون میں مبتلا بھارت اسلحہ کے انبار لگا رہا ہے تاکہ خطے میں اپنی طاقت کو بڑھا کر ہمسایہ ممالک کو خوفزدہ کر سکے مگر اس کو یہ علم ہونا چاہیے کہ جنوبی ایشیا میں پاکستان واحد طاقت ہے جو بھارت کی کسی گیدڑ بھبھکی سے نہیں ڈرتا پاکستان ہمیشہ خطے میں امن کا خواہشمند ہے اور ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل نہیں ہونا چاہتا بھارت کو خطے میں قیام امن کیلئے پاکستان کے ساتھ کشیدگی بڑھانے کے بجائے مذاکرات کی راہ اپنانی چاہیے اسی میں اس کی بھلائی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں