بھارت کا سیلابی پانی چھوڑنے کا امکان ختم

لاہور (بیوروچیف) بھارت کی جانب سے دریائے ستلج، راوی اور بیاس میں سیلابی پانی چھوڑنے کا امکان ختم ہو گیا ہے۔وفاقی ذرائع کے مطابق بھارت، جو ماضی میں پاکستانی دریائوں کا پانی روکنے کی دھمکیاں دیتا رہا، اپنے ڈیموں سے اضافی پانی چھوڑنے میں ناکام رہا جس کے نتیجے میں یہ پانی پاکستان کو مل گیا۔دستاویزات کے مطابق دریائے ستلج پر واقع بھاکھڑا ڈیم 57فیصد، دریائے راوی پر تھین ڈیم 61فیصد اور بیاس پر پونگ ڈیم 57فیصد خالی ہیں۔اس صورتحال نے بھارت کے ڈیموں سے سیلابی ریلے چھوڑنے کے منصوبے کو ناکام بنا دیا۔ذرائع نے بتایا کہ دریائے ستلج اور راوی کا بارشی پانی قصور اور جسڑ کے مقامات سے پاکستان میں داخل ہو رہا ہے جس سے پاکستان کو تقریبا ایک ملین ایکڑ فٹ اضافی پانی حاصل ہوگا۔تاہم، وفاقی ذرائع نے خبردار کیا کہ بھارتی دریائوں کے نچلے طاس میں بارشوں کا قدرتی پانی پاکستان میں سیلاب کا باعث بن سکتا ہے۔مون سون کے دوران بارشی سیلاب سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو ہائی الرٹ رہنے کی ضرورت ہے۔پی ڈی ایم اے کے مطابق، دریائوں میں پانی کی سطح کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور متعلقہ اضلاع کو ممکنہ سیلابی خطرات سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ مقامی حکام کی ہدایات پر عمل کریں اور سیلابی صورتحال سے بچاو کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں