14

بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کرنے کی ضرورت (اداریہ)

بھارت پاکستان کا ازلی دشمن’ تاریخ گواہ ہے جب بھی بھارت کو میدان جنگ یا سفارتی محاذ پر ہزیمت اٹھانا پڑی اس کا ردّعمل ہمیشہ بزدلانہ کارروائیوں کی صورت میں سامنے آیا مئی 2025ء میں پاکستان کے ہاتھوں ملنے والی عبرت ناک شکست نے بھارتی اسٹیبلشمنٹ کے غرور کو خاک میں ملا دیا اس شکست کے زخم اتنے گہرے ہیں کہ مودی سرکار اب حواس باختہ ہو کر ”پراکسی وار” کے آخری حربوں پر اُتر آئی ہے جب بھی بھارتیہ پارٹی (بی جے پی) کو اپنی سیاسی زمین سرکتی محسوس ہوتی ہے وہ مسلم دشمنی اور پاکستان کارڈ کا سہارا لیتی ہے مقصد یہ ہے کہ پاکستان کے خلاف مصنوعی ماحول پیدا کر کے عوامی توجہ مہنگائی’ بیروزگاری اور سیاسی ناکامیوں سے ہٹا دی جائے اس کے لیے تنخواہ دار دہشت گردوں کے ذریعے پاکستان میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کی جاتی ہے بھارتی سازشوں کے سامنے اگر کوئی مضبوط دیوار ہے تو وہ ہے پاکستان کی بہادر افواج اور متحد قوم مئی 2025ء کے معرکے کے ثابت کر دیا کہ پاکستانی فوج نہ صرف جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس ہے بلکہ جذبہ ایمان اور پیشہ وارانہ مہارت میں دنیا بھر میں بے مثال ہے آج بھی سرحدوں پر کھڑا جوان ہو یا شہریوں میں گشت کرنے والا اہلکار ہر ایک کا عزم یہی ہے کہ دشمن کے ناپاک قدم کبھی اس دھرتی کو ناپاک نہ کر سکیں پاکستان سے دشمنی کی آڑ میں بھارت نے کرکٹ کو بھی متنازعہ بنا دیا ہے اور کھیل میں بھی سیاست کا استعمال شروع کر کے اپنی اہمیت ثابت کرنے کی کوشش کی مگر پاکستان کے دوٹوک فیصلے کے آگے بھارت کی ایک نہ چلی پاکستان کرکٹ بورڈ نے بروقت صحیح فیصلے کئے اور ان پر ڈٹ گیا پاکستان کے پاس یہ ایک سنہری موقع ہے کہ وہ کرکٹ کے جنون کو عالمی سطح پر بھارت کے مکروہ چہرے کو بے نقاب کرنے کیلئے استعمال کرے جب دنیا کے تمام بڑے میڈیا ہائوسز کی توجہ پاک بھارت ٹکرائو کے ہونے یا نہ ہونے پر مرکوز ہے ایسے میں پاکستانی حکومت کو الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے اپنی دفاعی پوزیشن چھوڑ کر جارحانہ انداز اپنانا ہو گا اور دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ دنیا کو یہ دکھانا ہو گا کہ جو ملک خود کو جمہوریت کا علمبردار کہتا ہے وہ دراصل خطے میں فتنہ سازی اور دہشت گردی کا سب سے بڑا اسپانسر ہے پاکستان کو دنیا کے سامنے دوٹوک موقف اختیار کرنا ہو گا کہ کرکٹ اور دہشت گردی ایک ساتھ نہیں چل سکتے پاکستان کو عالمی میڈیا کے ذریعے یہ واضح پیغام دینا چاہیے کہ بھارت کے ساتھ میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ محض کھیل تک محدود نہیں بلکہ یہ اعلانیہ دہشت گردی کے خلاف شدید احتجاج ہے جو بھارت پاکستانی سرزمین پر کروا رہا ہے عالمی برادری کو یہ باور کرانے کی ضرورت ہے کہ جو ملک پاکستان میں بدامنی پھیلانے کیلئے کالعدم تنظیموں کی پشت پناہی کرتا ہو، ان کے کارندوں کو مالی فنڈنگ فراہم کرتا ہو اور حد یہ کہ ان دہشت گردوں کے بیانیئے کو اپنا میڈیا چینلز پر ہیرو بنا کر پیش کرتا ہو وہ کسی بھی طور اسپورٹس مین شپ یا دوستانہ مقابلوں کا حقدار نہیں پاکستان کو واضح کرنا ہو گا کہ جب تک بھارت اپنی معاندانہ پالیسیاں’ سرحد پار مداخلت اور دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی ختم نہیں کرتا اس وقت تک اس کے ساتھ کھیل کے فروغ کیلئے تعاون نہیں ہو سکتا، پاکستان کو دنیا کو یہ بھی بتانا چاہیے کہ بھارت نہ صرف پاکستان میں اعلانیہ دہشت گردی کروا رہا ہے بلکہ بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کی مالی وعسکری سرپرستی کر کے ہمارے وجود پر حملہ آور ہے۔ وزیرداخلہ محسن نقوی کا یہ بیان کہ بھارت دُنیا بھر میں دہشت گردی کر رہا ہے ایک تلخ سچ کی بازگشت ہے جسے اب عالمی برادری بھی نظرانداز نہیں کر سکتی کینیڈا میں سکھ راہنمائوں کا قتل ہو یا امریکہ میں ناکام قاتلانہ سازشیں’ بھارتی خفیہ ایجنسی (را) کا مکروہ چہرہ بین الاقوامی سطح پر سامنے آ چکا ہے، اس وقت پاکستان کو بھارت کے خلاف ڈٹے رہنا چاہیے تاکہ اس کو پتہ چل سکے کہ ہم متحد قوم اور دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کی مانند ہیں ہمیں جھکایا نہیں جا سکتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں