50

بھارت کشمیریوں کا خون بہانا بند کرے (اداریہ)

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بھارت نتیجہ خیز مذاکرات کرے، کشمیر اس کا حصہ نہیں بن سکتا، کشمیریوں کا لہو بہانے سے مسئلہ حل نہیں ہو گا یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر آزاد جموں وکشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ کشمیریوں کے آزادی کے نعرے کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج میں اضافے کے ساتھ کشمیریوں میں آزادی کی تڑپ بھی بڑھ رہی ہے وزیراعظم نے کہا بھارت کو 5اگست جیسے اقدامات سے باہر نکل کر مذاکرات کی طرف آنا ہو گا بھارت اپنی فسطائیت کی بدولت یہ نہ سمجھے کہ وہ کشمیریوں کو ان کی زمین سے بے دخل کر سکتا ہے جموں وکشمیر سمیت دیگر تصنیفہ طلب مسائل کو بات چیت سے حل کیا جائے، آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ کشمیر کی خاطر 3جنگیں لڑیں 10مزید لڑنی پڑیں تو لڑیں گے، کوئی شک نہیں مقبوضہ وادی ایک دن آزاد ہو گی، مسلمان کبھی دشمن کی تعداد یا ہتھیاروں سے مرعوب نہیں ہوتے،، وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے بھارت کو واضح کیا ہے کہ بھارت کشمیریوں کی آزادی کی جدوجہد کو دبا نہیں سکتا کشمیر کبھی بھی بھارت کا حصہ نہیں ہو سکتا وزیراعظم نے بھارت کو دعوت دی کہ وہ تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرے پاکستان کشمیریوں کی سفارتی سیاسی واخلاقی حمایت جاری رکھے گا،، ہر سال 5فروری کے دن دنیا بھر میں مقیم پاکستانی اور کشمیری اس جذبے کے ساتھ مناتے ہیں کہ مقبوضہ ریاست جموں وکشمیر کے عوام جو بھارت کے خلاف جدوجہد آزادی میں مصروف ہیں کے ساتھ اظہار یکجہتی ہو اور اس طرح کشمیری عوام کی حوصلہ افزائی بھی ہوتی ہے ہر سال کی طرح اس مرتبہ بھی پاکستان اور دنیا بھر میں پاکستانیوں اور کشیریوں نے یوم یکجہتی کشمیر منایا گیا وفاقی دارالحکومت چاروں صوبوں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں مظاہرے اور ریلیاں نکالی گئیں مظفرآباد کے آزادی چوک میں سائرن بجا کر ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی آزاد کشمیر کو پاکستان سے ملانے والے راستوں پر انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنا کر یکجہتی کا اظہار کیا گیا ملک بھر کی طرح فیصل آباد میں بھی یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر سیمینار منعقد ہوئے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ریلیاں نکالی گئیں بھارت کے خلاف نعرے لگائے گئے مختلف سیاسی’ سماجی’ مذہبی تنظیموں کے قائدین نے ریلیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مودی سرکار نے ظلم وبربریت کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے 5اگست 2019ء کو جبری طور پر یکطرفہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی اور پھر مزاحمت کے ڈر سے آج تک محاصرہ لاک ڈائون برقرار رکھا ہوا ہے کشمیر فوجی چھائونی کے ساتھ ہی دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل ہو چکا ہے جس میں 90لاکھ انسانی خوراک ادویات کی شدید قلت سخت سردی کے باعث زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں عالمی ادارے اور اقوام متحدہ خاموش تماشائی بنے ہوئے ہے جو قابل مذمت ہے،، اس وقت بھارت 39102 مربع میل پر جبری طور پر قابض ہے جو مقبوضہ کشمیر کہلاتا ہے اس کا دارالحکومت سری نگر ہے بقیہ علاقہ انگریزوں نے ریاست جموں وکشمیر کو 75لاکھ روپوں کے عوض ڈوگرہ راجا غلام سندھ کے ہاتھوں فروخت کر دیا کشمیر کی آزادی 80فی صد مسلمانوں پر مشتمل ہے ہندو راجا نے بزور شمشیر مسلمانوں کو غلام بنا رکھا تھا تقسیم ہند کے بعد ہندو مہاراجہ نے مسلمانوں کی مرضی کے خلاف 26اکتوبر 1947ء کو بھارت کے ساتھ الحاق کا اعلان کر دیا اس کے نتیجے میں پاکستان اور بھارت میں جنگ کا آغاز ہو سلامتی کونسل کی مداخلت پر یکم جنوری 1949ء کو جنگ بندی ہو گئی سلامتی کونسل نے 1948ء میں منظورشدہ قراردادوں میں بھارت اور پاکستان کو کشمیر سے افواج نکالنے اور وادی میں رائے شماری کروانے کیلئے کہا جو آج تک نہیں کروائی جا سکی پاکستان نے متعدد بار اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مقبوضہ وادی کے تنازعہ کو حل کرانے کی یاد دہانی کروائی مگر بھارتی حکمران اس اہم ترین مسئلہ کے حل میں ٹال مٹول سے کام لیکر مقبوضہ وادی پر اپنا جبری قبضہ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں