43

بھارت کو بڑا جھٹکا،بنگلہ دیش نے 2کروڑ10لاکھ ڈالر کا دفاعی معاہدہ منسوخ کردیا

اسلام آباد (بیوروچیف) بھارت کی جانب سے پاکستان کو عالمی سطح پر معاشی طور پر کمزور کرنے کی سازشیں ایک بار پھر بے نقاب ہو گئیں۔ سفارتی ذرائع اور سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت نے نہ صرف پاکستان کے خلاف جھوٹا عالمی پروپیگنڈا شروع کیا ہے بلکہ اسے دوبارہ ایف اے ٹی ایف (فنانشل ایکشن ٹاسک فورس) کی گرے لسٹ میں شامل کروانے کی بھرپور کوششیں بھی کی جا رہی ہیں۔ذرائع کے مطابق بھارت کی جانب سے ایف اے ٹی ایف کو جو ڈوزیئر پیش کیا گیا ہے، وہ بے بنیاد الزامات پر مشتمل ہے اور اس کا مقصد پاکستان پر عالمی مالیاتی دبا ڈال کر ترقیاتی منصوبوں کی راہ میں رکاوٹ ڈالنا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت یہ ظاہر کر چکا ہے کہ وہ پاکستان کی اقتصادی بحالی اور ترقی سے خائف ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق بھارت نے حال ہی میں ورلڈ بینک کی جانب سے پاکستان کے لیے منظور کردہ 20 ارب ڈالر کے ترقیاتی منصوبوں کی شدید مخالفت کی ہے، جس سے اس کے مذموم عزائم مزید عیاں ہو گئے ہیں۔ بھارت کی کوشش ہے کہ پاکستان کو مالی امداد سے محروم کر کے ترقیاتی عمل کو روک دیا جائے تاکہ ملک کو اندرونی طور پر عدم استحکام کا شکار کیا جا سکے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت خطے میں اپنی بالادستی قائم رکھنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف ہے۔ یہ تمام اقدامات سیاسی دشمنی اور پاکستان کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی خواہش کا مظہر ہیں۔ان ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت دنیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ پاکستان مسلسل شفافیت، مالی نظم و ضبط اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔پاکستانی حکام نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ بھارت کے جھوٹے پروپیگنڈے کا شکار نہ ہوں اور خطے میں امن و ترقی کے فروغ کے لیے پاکستان کے مثبت اقدامات کا ادراک کریں۔دریں ثناء ۔ڈھاکہ /نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) بنگلہ دیش نے بھارت کے ساتھ 2کروڑ 10 لاکھ ڈالر (تقریبا ً21ملین ڈالر) کا ایک اہم دفاعی معاہدہ منسوخ کر دیا ہے۔ یہ معاہدہ بھارتی سرکاری دفاعی کمپنی ”گارڈن ریچ شپ بلڈرز اینڈ انجینئرز لمیٹڈ” کو ایک جدید سمندری ٹگ بوٹ بنانے کے لیے جولائی2024میں دیا گیا تھا۔بھارتی اخبار کے مطابق، بنگلہ دیش کا یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت نے حال ہی میں بنگلہ دیش کو ٹریڈ ٹرانس شپمنٹ کی سہولت واپس لے لی ہے، جس کے تحت بنگلہ دیش اپنے سامان کو تیسرے ممالک بھیج سکتا تھا۔ماہرین کے مطابق یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے سفارتی تنا کی علامت ہے، جو وزیر اعظم شیخ حسینہ کی حکومت کے اگست 2024میں ختم ہونے کے بعد مزید نمایاں ہو گیا ہے۔GRSE نے انڈین اسٹاک ایکسچینج کو جمع کرائی گئی رپورٹ میں اس معاہدے کی منسوخی کی تصدیق کی ہے۔ تاہم، GRSEنے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ وہ انڈین نیوی کے لیے اگلی نسل کے جنگی جہازوں (Next Generation Corvettes) کے ٹینڈر میں سب سے کم بولی دینے والا ادارہ بن چکا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں