45

بھارت کی اندرونی سکیورٹی کو خطرات کا سامنا (اداریہ)

پہلگام واقعہ کے بعد بھارت نے عالمی میڈیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کرنے کیلئے اس واقعہ کا الزام پاکستان پر عائد کیا گزشتہ دنوں سے یہ خبریں بھی مل رہی ہیں کہ بھارت نے پاکستان پر حملے کی تیاری شروع کردی ہے حالانکہ دنیا کے کسی ایک ملک نے بھی بھارت کا موقف نہیں مانا کہ اس واقعہ میں پاکستان کا ہاتھ ہو سکتا ہے پہلگام واقعہ کے بعد بھارت نے غیر ملکی سفارت کاروں کو بریفنگ دی اور الزام پاکستان پر لگایا لیکن اس الزام کے حق میں ایک بھی ثبوت نہیں دکھایا،’ اس واقعہ کے بعد سے اب تک بھارتی وزیراعظم اوران کی کابینہ پاکستان کے خلاف پراپیگنڈہ مہم چلائے ہوئے ہیں بھارتی میڈیا بھی خوب چِلا رہا ہے اور ساتھ ہی پاکستان کو سبق سکھانے کی باتیں بھی کی جا رہی ہیں مگر پاکستان نے بھارتی پراپیگنڈے اور پہلگام واقعہ پر بھارتی الزام کو مسترد کر دیا ہے ممکنہ جنگ سے نمٹنے کیلئے افواج پاکستان پوری طرح الرٹ ہیں اور وزیر دفاع خواجہ آصف کے مطابق بھارتی حملے کے خدشے پر سرحد پر پاکستان کی فوجی قوت بڑھا دی گئی ہے وزیرد فاع نے کہا ہے کہ ہمارے وجود کو خطرہ ہوا تو ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال کریں گے، وزیردفاع نے بھارت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر بھارت نے حملہ کی غلطی کی تو اس کا ذمہ دار وہ خود ہو گا پاکستان حملے کا بھرپور جواب دے گا” پاکستان دشمنی میں بھارت پہلگام ڈرامہ رچا کر حالات کو جس نہج پر لے آیا ہے وہ پورے خطے کے ممالک کیلئے لمحہ فکریہ ہونا چاہیے اگر بھارت طاقت کے نشے اور اپنے سرپرستوں کی آشیرباد سے پاکستان پر جنگ مسلط کرتا ہے تو ایک تو یہ جنگ محدود نہیں رہے گا بلکہ ایک بڑی جنگ میں بھی تبدیل ہو سکتی ہے جس کے اثرات خطے پر پڑیں گے بھارت کی طرف پہلگام واقعے کا ڈرامہ جن وجوہ کو بنیاد بنا کر رچایا گیا وہ آہستہ آہستہ سامنے آ رہی ہے کہ پہلگام میں حملہ کسی اور نے نہیں بلکہ بھارت کے اپنے ہی اداروں نے کیا ہے جس کا مقصد پاکستان کو بدنام کرنا اور بھارت میں بالعموم تمام اقلیتوں اور بالخصوص مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم سے نظر ہٹانا تھا ایسے وقت میں جب بھارت پاکستان پر پہلگام واقعہ بے بنیاد الزامات عائد کر رہا ہے پاکستان میں فتنہ الخوارج کی سرگرمیاں واضح کرتی ہیں کہ وہ کس کے اشارے پر کام کر رہے ہیں بھارتی وزیراعظم مکار شخص ہیں اور اپنے ملک میں ہونے والے واقعات اور بھارت کی اندرونی سکیورٹی پر نظر رکھنے کی بجائے پاکستان کے خلاف پراپیگنڈہ کر کے عالمی ممالک میں پاکستان کو بدنام کرنے میں مصروف ہیں جبکہ آج بھارت اقلیتوں کے لیے غیر محفوظ ملک بن چکا ہے جہاں مسلمانوں پر مظالم ڈھائے جا رہے ہیں 22کروڑ مسلم آبادی خوف وہراس کے عالم میں زندگی گزار رہی ہے مقبوضہ وادی میں بھارتی غنڈے بدمعاشی کر رہے ہیں کشمیریوں کے گھروں کو گرایا جا رہا ہے نوجوانوں پربغاوت کا جرم لگا کر ان کو پابند سلاسل کیا جار ہا ہے مقبوضہ وادی میں انٹرنیٹ بند کر کے کشمیریوں کے رابطے کاٹ دیئے گئے ہیں نریندر مودی نفرتوں کی فصل پروان چڑھا رہا ہے سات لاکھ سے زائد بھارتی فوج مقبوضہ وادی میں مورچے سنبھالے ہوئے ہے وادی میں خوف کا سماں ہے بھارت میں اقلیتوں کیلئے زمین تنگ کی جا رہی ہے بھارت کی اندرونی سکیورٹی خطرات کا شکار ہے مگر بھارت سرکار کو اپنی حکومت کی کوئی فکر نہیں اور پاکستان کے خلاف پراپیگنڈہ مہم چلانے میں ہی دلچسپی ہے اس وقت صورت حال جو ہے اس پر نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کے دیگر ممالک کو بھی فکر ہے کیونکہ اگر جنوبی بھارت نے انتہائی قدما ٹھانے کی حماقت کر دی تو علاقائی امن خطرے میں پڑ سکتا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں ممالک پرامن طریقہ سے اپنے خدشات کو دور کرنے کیلئے مذاکرات کی راہ اپنائیں تاکہ خطے میں قیام امن کی راہ ہموار ہوسکے جنگ سے مسائل حل نہیں ہوتے ماضی اور حال کا موازنہ کیا جائے تو موجودہ حالات میں مذاکرات ہی فائدہ مند ہو سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں