75

بھاری بجلی بلوں اور کمر توڑ مہنگائی سے عوام پریشان (اداریہ)

وفاقی بجٹ کی منطوری کے بعد ایک بار عوام پر مہنگائی کے سائے لہرانے لگ گئے ہیں عوام کو تعلیم’ سفر’ خوراک’ رہائش’ ہر چیز پر اضافی ٹیکس دینا پڑے گا بجٹ میں ان طبقوں کو پھر نظرانداز کیا گیا ہے جو کئی دہائیوں سے ٹیکس چھوٹ کے مزے لوٹ رہے ہیں مہنگائی کے مارے عوام کو ہر شے پر حکومت کو ٹیکس ادا کرنا ہو گا ہوائی سفر پر اکانومی کلاس پر 150 فی صد بزنس کلاس پر 40 فی صد ٹیکس میں اضافہ کیا گیا ہے حکومت نے اپنے اخراجات کم کرنے کے بجائے تنخواہ دار اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے افراد پر مزید بوجھ ڈال دیا ہے اضافی ٹیکسوں سے آنے والے دنوں میں معاشی صورتحال مزید خراب ہو گی وزیراعظم نے کفایت شعاری کا نعرہ لگایا تھا اس سے عوام میں خوش فہمی پیدا ہو گئی تھی کہ شاید حکومت کے اس فیصلے سے عوام کی مشکلات میں کمی واقع ہو گی مگر حکومت کے شاہانہ اخراجات میں کوئی کمی نہیں کی گئی آئی ایم ایف نے صرف 3ہزار روپے کے اضافی فنڈز کا مطالبہ کیا تھا جس کے لیے حکومت نے پٹرول لیوی پر 20روپے اضافے کا مستقل بندوبست کر دیا چھوٹی موٹی اشیاء پر ٹیکس نافذ کر کے عام آدمی کی گردن میں پھندا مزید تنگ کر دیا ہے حکومت چاہتی تو آسان راستہ اشرافیہ کیلئے 3900 ارب کی ٹیکس مراعات اسی اشرافیہ کی ملکیت آئی پی پیز کو بھتے کے طور پر ادا کی جانے والی 2800 ارب روپے کی رقم اور سرکاری ملازمین’ مراعات یافتہ طبقہ جس میں انتہائی معزز طبقہ بھی شامل ہیں اور بیوروکریٹس کو 770 ارب روپے کی مفت بجلی اور پٹرول کی فراہمی روک لیتی تو نہ صرف یہ کہ آئی ایم یف کے مطلوبہ 3ہزار کا بندوبست بھی ہو جاتا بلکہ حکومت اس غریب عوام کو 4470 ارب کی مراعات اور سبسڈیز بھی دے سکتی تھی، لیکن ہمیشہ کی طرح حکومت یہ کیسے برداشت کر سکتی ہے کہ اسکے شاہانہ اخراجات میں کمی آئے لہٰذا حکومت نے تمام بوجھ غریب عوام پر ڈال کر اس کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے پٹرول کے نرخوں میں 7روپے 45پیسے’ ڈیزل کی قیمت میں 9روپے 56پیسے فی لیٹر اضافہ کر کے مہنگائی کے مارے عوام کی کمر توڑنے کے اسباب پیدا کر دیئے ہیں لوگوں کی آمدن کا بڑا حصہ بجلی کے بلوں کی ادائیگی میں خرچ ہو رہا ہے یہ فیصلہ نہیں ہو پاتا کہ گھر کا کرایہ دیں یا بجلی کا بل’ استعمال شدہ بجلی کی قیمت سے کہیں زیادہ مختلف قسم کے ٹیکس ادا کرنا پڑتے ہیں پھر بھی حکومت غریب افراد پر اضافی ٹیکس عائد کر کے ان کو زندہ درگور کرنے کیلئے کوشاں ہے یوں محسوس ہوتا ہے کہ بجلی کا بل نہیں یہ کوئی جگا ٹیکس ہے جو بدمعاشی اور ڈھٹائی کے ساتھ وصول کیا جا رہا ہے معاشی حالات بدتر ہوتے جا رہے ہیں گردشی قرضوں کا پہاڑ مسلسل اونچا ہوتا جا رہا ہے صرف پاور سیکٹر کا سرکلرڈیبٹ 2310 ارب روپے ہو چکا ہے اور ان میں سے سب سے بڑا حصہ آئی پی پیز کا ہے جن کو حکومت نے 1800 ارب روپے کی ادائیگیاں کرنی ہیں لوگوں نے بجلی کے بلوں سے چھٹکارا پانے کی ایک صورت یہ نکالی کہ شمسی توانائی پر انحصار کرتے ہوئے سولر پینل لگا لئے جائیں مگر اب حکومت اس رجحان کی بھی حوصلہ شکنی کر رہی ہے المختصر عام آدمی کیلئے مشکلات دن بدن بڑھ رہی ہیں بھاری بھر کم بل عام آدمی کیلئے موت کا پروانہ بنتے جا رہے ہیں ایک دیہاڑی دار مزدور کی اتنی آمدنی نہیں جتنے گھر کے اخراجات ہیں بجلی’ گیس کے بلوں کی ادائیگی کے بعد بچوں کے تعلیمی اخراجات’ آٹا’ دالیں’ مصالحہ جات’ دہی’ دودھ’ گوشت’ سبزیاں’ بچوں کے سکول یونیفارم سمیت دیگر ضروری اشیاء کیلئے وہ کہاں سے رقم لائے حکمران طبقہ اپنی عیاشیاں ختم کرنے کیلئے تیار نہیں اور حکومتی اخراجات غریبوں پر ڈالے جا رہے ہیں مہنگائی پر قابو پانے کی تمام تر حکومتی کوشش ناکام ہو چکی ہیں ہر ماہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کے بلوں میں اضافہ کر کے غریبوں کی جیبوں سے اربوں روپے نکالے جا رہے ہیں ملک کی عدالتیں بھی ازخود نوٹس نہیں لے رہیں عام آدمی جائے تو جائے کہاں؟ ہماری وزیراعظم سے گزارش ہے کہ خدارا غریبوں پر رحم کھائیں حکومت اپنے اخراجات کم کر کے کفائت شعاری کے اعلان پر عملدرآمد کیا جائے بجلی کے نرخوں میں کمی کی جائے اشرافیہ کی مراعات ختم کر کے عام آدمی کو ریلیف دیا جائے تاکہ وہ بھی سکھ کا سانس لے سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں