2

بہار، بسنت اور وزیر اعلیٰ پنجاب کا احسن قدم

(پھر اس انداز سے بہار آئی۔۔ کہ ہوئے مہرومہ تماشائی) بہار کے آنے سے ہریالی کائنات کو اپنے دامن میں لینے کے لئے پوری طرح متحرک ہوجاتی ہے۔ سردی کی وجہ سے اندر چھپ کر بیٹھنے والی لوکائی کے دل میں باہر نکل کر کچھ نہ کچھ کرنے کی تحریک پیدا ہوتی ہے اور موسمیاتی تغیر ہم سب کو باہر نکلنے پر مجبور کر دیتا ہے اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم باہر نکل کر حیوانوں کی طرح اپنے آپ کو مادر پدر آزاد سمجھ کر بھاگ دوڑیں گے اور کس سمت بھاگیں گے اس بات کا بھی ہمیں پورا علم نہیں ہے۔ یہ بھی امکان ہے کہ ایسے موسم میں ہم آپے سے باہر ہو جائیں اور ایک دوسرے سے ہی الجھنا شروع کردیں۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ ہم کھا پی کر غل غپاڑہ کرنا شروع کردیں اور پھر ہمیں جیل کی ہوا کھانا پڑے۔ خیر ان حالات میں ہم نے کچھ نہ کچھ تو کرنا ہے بہتر ہے کہ کوئی ایسا کام کرلیا جائے جس سے خوشی کا اظہار بھی ہوجائے اور معاشرہ خوشی کی تقاریب یا رونق میلے کے رولے گھولے سے تنگ بھی نہ آجائے یا پھر ہم کسی بڑے حادثے سے دو چار ہوجائیں۔ اعتدال۔ سب بدعات اور مسائل کا علاج۔ کائنات کبھی بھی سوجھ بوجھ اور دیکھ بھال کر چیزیں کرنے والوں سے خالی نہیں رہی ہے۔ بہار کوئی پہلی دفعہ نہیں آرہی ہے۔ تاہم یہ امر قابل ذکر ہے کہ دنیا میں ایجادات نے سوچ کے انداز بدل دیئے ہیں اور سوچنے والے بھی ایک جیسے نہیں رہے۔ اس سے ہٹ کر اگر دیکھا جائے تو اس جہان رنگ وبو میں خیر اور شر بھی آگے پیچھے چلتے رہتے ہیں اور خیر اور شر ایک ہی گیم کے کھلاڑی ہیں بہرحال مدمقابل۔انسان ہی دنیا میں رہتے ہوئے فرشتہ کی صفات کا مظہر ہوتا ہے اور انسان ہی شیطان کے کہنے میں شیطانی افعال کا مرتکب ہوجاتا ہے۔ ارتکاب اور کرتب کا ایک ہی مادہ ہے۔ ان ساری باتوں کے باوجود بہار کو خوبصورت انداز میں بنی آدم نے ہمیشہ ہی منایا ہے۔ جب تفریح کے بہت زیادہ سامان نہیں تھے توہمارے ہاں تو میلے ٹھیلے، بسنت جیسے پروگرام ہی تھے جن سے لوگوں کو بہلایا جاتا تھا۔ کھیلیں، بھنگڑے، لڈیاں، موسیقی، لوک گیت، موت کا کنواں، نقال، ورائٹی شو اور پھر پتلی تماشہ۔ یہ تو ساری چیزیں دیکھنے کے لئے گھروں سے باہر نکلنا پڑتا تھا۔ گھر گھر تو پتنگ بازی۔ بو کاٹا، گڈی اڑانا، پیچا ڈالنا، گڈی لوٹنا اور پھر ٹھیک ٹھاک ایک زبردست اور پرجوش سرگرمی۔ کم خرچ بالا نشین۔ دو تین پیتنگ یا کچھ زیادہ اور دھاگہ۔ وہ بھی اونے پونے کا اور نازک دھاگہ۔ اس وقت کے دھاگے اور دل میں انیس بیس کا فرق ہوتا تھا دونوں کسی وقت بھی ٹوٹ سکتے تھے۔ ان دونوں کے ٹوٹنے کا اکثر خطرہ رہتا تھا۔ دل تو پھر دل تھا۔ ( خموش اے دل بھری محفل میں چلانا نہیں اچھا) اور جہاں تک پیتنگ کے دھاگے کے ٹوٹنے کا تعلق تھا۔ اس خطرے کا کوئی ایشو نہیں تھا فوری ایک دوسرا دھاگہ اور پھر چل سو چل۔ کمال پتنگ بازی، لاجواب ہلہ گلہ، امیر غریب کی کوئی تمیز نہیں، سب کی نظریں آسمان پر اور ساتھ ٹیپ پر بجایا جانے والا گانا” گڈی وانگوں آج مینوں سجناں اڈائی جا اڈائی جا اڈائی جا” مزے کی بات ہے پیچے پڑتے ضرور تھے لیکن ایسا کبھی پیچا نہیں پڑا تھا کہ کسی کی غیرت جاگ جائے اور پھر وہ گنڈاسہ، پستول یا خنجر لے کر پنج ست بندے ایسے ہی مار دے۔ خیر ایسے بندے تھوڑے مرتے ہیں ہاں بہار آنے پر کسی کا کسی پر مرجانے کا امکان ضرور ہوتا ہے ایسی صورت میں مرنے والے کو آنکھ بچا کر رہنا پڑتا ہے ورنہ کیدو کلچر بھی ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ سمارٹ پلے کی ضرورت ہے۔ افسوس دھات کی تار، دہشت گردی کی لہر اور اوپر سے سوشل میڈیا پر رولے ہی رولے۔ ان سارے عوامل نے ہماری بہار کی ساری سرگرمیوں کا تیا پانچہ کردیا۔ اور ہم نے کسی خطرے سے بچنے کا آسان حل یہ نکالا کہ سب چیزوں پر پابندی۔ میلے بند، گلوکار بیچارے حوالات میں بند، میلوں کے نتیجے میں سارے کاروبار بند۔ بسنت تو بالکل ہی بند۔ بندے پھر بھی ساری دنیا میں مررہے ہیں۔ شاید واقعات کے تسلسل کو نہ کبھی روکا گیا ہے اور نہ ہی کبھی روکا جا سکے گا۔ ہاں تدبیر سے چیزوں کو بہتر کیا جا سکتا ہے۔ سلیقہ شعاری سے معاملات کو اچھا بنایا جا سکتا ہے اور ہر کام کے لئے ممکنہ اقدامات کو یقینی بنا کر دنیا کو خوبصورت بنایا جا سکتا ہے اور دنیا والوں کو تفریح کے مناسب مواقع فراہم کئے جا سکتے ہیں۔ مثل مشہور ہے کہ دنیا ہے دل والوں کی اور دل سے جو کام کیا جاتا ہے اس کے اثرات بھی دنیا محسوس کرتی ہے۔ راجن پور ایک ایسا ضلع ہے جہاں احساس محرومی بھی ہے، جرائم کی بھی ایک دنیا کچے کے علاقے میں قائم ہے۔ دھیمے مزاج کے بھلے مانس لوگ ہیں۔ ٹرائبل ایریا میں بنیادی سہولیات کی بہت کمی ہے۔ اس پس منظر کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ قارئین کو اندازہ ہو سکے کہ کس حد تک وہاں گھٹن کا ماحول ہوگا۔ ایک خواجہ غلام فرید کا مزار اور یہی مزار ساری امیدوں کا مرکز۔ یہاں بھی چار سال سے میلے پر پابندی اور وہ اس لئے کہ دہشت گردی کا خطرہ۔ میں جب ڈپٹی کمشنر راجن پور تعینات ہوا تو اداروں کو اعتماد میں لے کر میلے کی اجازت دے دی۔ عوام میرے اس کام پر آج تک وارے وارے جاتی ہے اور اس کی وجہ یہ تھی راجن پور میں میلے مذکور کی وجہ سے کروڑوں روپے کے کاروباری مواقع پیدا ہوئے۔رونق میلہ اور اس میں لوگوں کی سیروسیاحت۔ ہر چہرہ چمک اٹھا اور مردہ دلوں میں زندگی کی لہر دوڑ گئی۔ ہمارے دیہات کا کلچر بلکہ پنجاب کا کلچر شادی موت، میلوں ٹھیلوں اور بسنت کے گرد گھومتا ہے اور ہم چند خطرات کی وجہ سے سارے کلچرل پروگرام بند اور غریب بیچارہ بڑے شہروں میں آکر ہی فلم ڈرامہ یا رونق میلہ دیکھ سکے گا۔ پتنگ اڑانا بھی جرم ٹھہرا۔ ریاست کے پاس ایک ہی آپشن وہ یہ کہ ہر چیز پر پابندی۔ نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری۔ الامین اکیڈمی کے سالانہ پروگرام کے موقعہ پر محترم مجیب الرحمن شامی نے ایک بڑی خوبصورت بات کی اور وہ یہ کہ اس ملک کو درحقیقت غریبوں نے بنایا ہے پھر اس کی تعمیر وترقی میں غریب لوگوں نے ہی کردار ادا کیا ہے تاہم کچھ غریب جب صاحب حیثیت ہو جاتے ہیں تو بھول جاتے ہیں کہ ہمارا کل کیسا تھا۔ غریب کو ریاست سپیس دے گی تو گلشن میں بہار آئے گی اب کے سال بہار آئی ہے تو سوچ کی کونپلیں بھی کھلیں اور محترمہ مریم نواز شریف وزیراعلی پنجاب نے فیصلہ کیا کہ بسنت منائی جائے گی اور ضرور منائی جائے گی۔ فیصلہ اپنی نوعیت کا منفرد فیصلہ۔ اس قوم کو پریشانی، گھٹن، ہیجان اور غیر یقینی صورتحال سے نکالنے کا واحد حل۔ ان کو بہار آنے پر کھل کھلا کر خوش ہونے دیں اور بسنت کوئی بہت مہنگی ایکٹیوٹی بھی نہیں ہے۔ ہاں البتہ ادارے چوکس رہیں ویسے بھی اداروں کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوتا ہے۔ خلاف قانون کسی بھی حرکت پر قانون کو فوری حرکت میں آنا چاہیئے۔ لیکن لوگوں کی خوشیوں پر غیر ضروری پابندی لگانا کسی بھی قانون یا ضابطے میں اس کی اجازت نہیں ہے۔ آئیے باقاعدہ منصوبہ بندی کرکے پیتنگ کو اڑا کر اوپر دیکھتے ہیں اور یہ دیکھتے ہیں کہ بلندیوں پر جانے کا کیا طریقہ ہے اور بلندیوں پر اڑنے کو کیسے یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں