بینظیر انکم سپورٹ پروگرام بہترین قرار

اسلام آباد (بیورو چیف)چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد نے کہا ہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سیلاب زدگان کو بہترین سہولیات فراہم کرسکتا ہے،بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو فراڈ قرار دینے والے سیاسی رہنما نے ایک کروڑ خاندانوں کی توہین کی ہے، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو فراڈ کہنے والے سیاسی رہنما اپنے بیان پر معافی مانگیں ،سیلاب کے معاملے پر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ سے اجتناب کریں۔ منگل کو بی آئی ایس پی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سیلاب زدگان کو بہترین سہولیات فراہم کرسکتا ہے۔ سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ بی آئی ایس پی نے شفافیت، رفتار اور وسیع رسائی سے عوام کا اعتماد جیتا، یہ پروگرام غریبوں کی بقا اور وقار کا سہارا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی آئی ایس پی سب سے بہتر اور فوری ریلیف کا ذریعہ ہے ،کورونامیں بھی اسی پروگرام کے تحت لاکھوں خاندانوں کو ریلیف فراہم کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب سے غربت کی سطح سے نیچے رہنے والے افراد زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی آئی ایس پی کے پاس مفصل ڈیٹا موجود ہے جس کے ذریعے سیلاب متاثرین کو بروقت اور شفاف طریقے سے امداد دی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی آئی ایس پی کیساتھ ایک کروڑ گھرانے جڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا آڈٹ کا طریقہ کار ہے، بینظیر انکم سپورٹ کی مانیٹرنگ ورلڈ بینک اور ایشین بینک کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا کے دوسرے ممالک بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے سیکھنے آرہے ہیں، یہ پروگرام لوگوں کی زندگیاں بہتر بنارہا ہے، پروگرام سے ایک کروڑ سے زائد بچے تعلیمی وظائف لے رہے ہیں۔ روبینہ خالد نے کہا کہ بینظیر نشو ونما پروگرام پر بھی کام کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جتنے لوگ فلاحی کام کررہے ہیں وہ سب قابل تعریف ہیں۔انہوں نے کہا کہ کے پی میں بونیر، صوابی، سوات، باجوڑ میں موبائل سروے ٹیمز بھیجی ہوئی ہیں،سیلاب کی وجہ سے لوگوں کے کارڈز گم ہو چکے ہیں۔انہوںنے کہاکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہیںانہوںنے کہاکہ بلاول بھٹو کا مطالبہ ہے کہ سیلاب زدگان کی امداد بی آئی ایس پی کے ذریعے کی جائے۔ روبینہ خالد نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو فراڈ کہنے والے سیاسی رہنما اپنے بیان پر معافی مانگیں اور سیلاب کے معاملے پر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ سے اجتناب کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں