تحسین اعوان کیس،ہوشر با انکشافات ،مزید گرفتاریاں

فیصل آباد(وقائع نگار خصوصی)سینئر سول جج محمد اشفاق ملک نے سابق چیئرمین فیسکو ملک تحسین اعوان کے ڈیرے سے پکڑے جانے والے 18خواتین سمیت 87ملزمان کو5روزہ جسمانی ریمانڈ پر این سی سی آئی اے کے حوالے کر دیا۔ تفتیشی افسران کو مذکورہ ملزمان کو 14جولائی کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم’ اسکے علاوہ 62پاکستانی ملزمان سمیت غیر ملکی خواتین کو 23جولائی تک جوڈیشل ریمانڈ پر ڈسٹرکٹ جیل بھجوا دیا ہے۔متعلقہ ادارے کو ان ملزمان سے جیل میں ہی تفتیش کرنے کا کہا گیاہے۔ ان ملزمان کے خلاف این سی سی آئی اے نے 7مقدمات درج کئے ہیں۔جس کامرکزی ملزم سابق چیئرمین فیسکو ملک تحسین اعوان ہے ۔گرفتار ملزمان میں چین’ فلپائن’ نائجیریا ‘ سری لنکا’ میانمار اور زمبابوے کی خواتین و مرد شامل ہیں۔ جو عرصہ دراز سے فیصل آباد جیسے بڑے شہر میں آن لائن فراڈ کا دھندہ کر رہے تھے۔ گروہ کا سرغنہ ملک تحسین اعوان تاحال روپوش ہے جس کی گرفتاری کے لئے کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ملزم کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈال دیا گیا ہے تا کہ ملزم بیرون ملک فرار نہ ہو سکے۔یہاں پر یہ امرقابل ذکر ہے کہ فیصل آباد پاکستان کا دوسرا بڑا صنعتی شہر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک حساس نوعیت کا علاقہ بھی ہے۔ یہاں پر اس طرح کے نیٹ ورک کا عرصہ دراز تک چلنا مقامی پولیس (تھانہ بلوچنی)قانون نافذ کرنے والے اداروں اور خفیہ ایجنسیوں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔اس سکینڈل کے عالمی سطح پر چرچے ہیں۔اخبارات کے ساتھ ساتھ نیشنل اور انٹرنیشنل میڈیا پر یہ خبر ہائی لائٹ ہو رہی ہے مگر این سی سی آئی اے کے حکام یا حکومت نے اس بابت شہریوں کو کسی قسم کی آگاہی نہیں دی ہے۔اس کیس کی تحقیقات کا دائرہ وسیع کر کے مزید گرفتاریاں بھی کی جا رہی ہیں۔گروہ کے سرغنہ ملک تحسین اعوان کے ساتھ رہنے والے افراد سے بھی پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں