تربیلا ڈیم میں100فیصد تک پانی بھر چکاہے

لاہور (بیوروچیف) پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ ڈیموں کی صورتحال کے حوالے سے بتایا ہے کہ تربیلا ڈیم 100فیصد اور منگلا ڈیم 81فیصد تک بھر چکا ہے۔پی ایم ڈی کے مطابق تربیلا ڈیم کا لیول 1550 فٹ، منگلا ڈیم 1223.75فٹ، خانپور ڈیم 1979.60فٹ، راول ڈیم 1750.50فٹ اور سملی ڈیم 2314.75فٹ تک ہے۔بلوکی اور گنڈا سنگھ والا پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ چنیوٹ برج، راوی سائفن اور شاہدرہ کے علاوہ ہیڈ سلیمانکی پر بھی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔گڈو، خانکی، قادرآباد اور جسٹر پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔ سکھر، کوٹری، مرالہ اور ہیڈ اسلام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔دریائے چناب اور راوی کے ملحقہ نالہ ڈیگ اور پلکو میں اونچے، بئین میں درمیانے، نالہ ایک اور بسنتر میں نچلے درجے کا سیلاب ہے۔پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ کے مطابق دریائے ٹالی میں ہیڈ چانڈیہ کے مقام پر بھی نچلے درجے کا سیلاب ہے۔پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے کہا ہے کہ گنڈا سنگھ والا کے مقام پر دریائے ستلج میں پانی کا بہائو تین لاکھ 85ہزار کیوسک سے تجاوز کر گیا ہے۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں این ڈی ایم اے نے بتایا کہ یہ پانی کے بہائو کی گذشتہ تین دہائیوں میں بلند ترین سطح ہے۔ ممکنہ طور پر سیلابی ریلے کا بہائو مزید بڑھ سکتا ہے۔این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ قصور اور ملحقہ علاقوں میں شدید سیلابی صورتحال سامنا ہے۔ مقامی انتظامیہ اور ریسکیو ادارے ہائی الرٹ ہیں۔ریسکیو 1122 کا کہنا ہے کہ دریائے راوی کے ملحقہ نشیبی علاقوں سے لوگوں کو ریسکیو کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ترجمان کے مطابق ریسکیو اہلکاروں نے مانگا منڈی کے سیلابی پانی میں پھنسے مزید 11 لوگوں کو باحفاظت ریسکیو کیا۔ تمام افراد کا تعلق مانگا منڈی کے گاں جھگیاں ملایاواں دیاں سے تھا۔ریسکیو اہلکاروں نے راوی 12 دری سیمالی پورہ بند روڈ سے چھ افراد کو سیلابی پانی سے بحفاظت ریسکیو کیا۔ تمام افراد کا تعلق مالی پورہ بند روڈ سے تھا۔ اسی طرح آرائیں والا کھو گاں سے 19 افراد کو سیلابی پانی سے نکالا گیا جن میں میں نو بچے، ایک مرد اور نو خواتین شامل ہیں۔ترجمان ریسکیو نے مزید بتایا کہ گاں ملی والا ٹیوب ویل سے چار افراد اور ان کے جانوروں کو سیلابی پانی سے بحفاظت ریسکیو کیا گیا۔قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے پنجاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پنجاب میں حالیہ بارشوں اور سیلاب کے باعث اب تک 28 اموات رپورٹ ہوچکی ہیں۔ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان کاٹھیا اور ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید نے جمعے کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 1955 کے بعد ستلج میں یہ صورتحال دیکھنے کو ملی ہے۔انہوں نے کہا کہ سارا پانی انڈیا میں بند ٹوٹنے کے سبب قصور کی طرف بڑھا، ہمیں قصورکو بچانیکے لییموجود بند میں شگاف کرنا پڑ رہا ہے۔ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ہیڈ سلیمانکی کے بعد ہیڈ اسلام کو خطرہ درپیش ہوگا۔ پانی جب بہاولپور سے ہوتا ہوا پنجند جائے گا تب خطرہ ٹلے گا۔اس موقع پر ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید نے کہا کہ اوکاڑہ، پاکپتن اور ملحقہ علاقوں کے لیے اب مسائل پیدا ہونیکا خطرہ ہے، تمام حکومتی وسائل کوبدلتے حالات کے مطابق بروئیکار لایا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ہماری کوشش ہے کہ تمام متاثرہ علاقوں سے انخلا کویقینی بنایا جائے۔پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے کہا ہے کہ گوجرانوالہ، لاہور اور گجرات ڈویژن کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں آئندہ 12 سے 18 گھنٹوں میں شدید بارش کا امکان ہے۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں این ڈی ایم اے نے کہا کہ یہ بارشیں موجودہ سیلابی صورتحال کو مزید خراب کر سکتی ہیں کیونکہ دریائے راوی، ستلج اور چناب میں غیر معمولی بلند پانی کا بہائو برقرار ہے۔پنجاب کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے ترجمان نے کہا ہے کہ صوبے میں مون سون بارشوں کا 9 واں سپیل شروع ہو چکا ہے اور دریاں کے بالائی علاقوں میں شدید بارشوں کی پیشگوئی ہے۔ترجمان کے مطابق جمعے سے 2 ستمبر تک پنجاب کے بیشتر اضلاع میں شدید طوفانی بارشوں کی پیشگوئی ہے۔ راولپنڈی، مری، گلیات، اٹک، چکوال، جہلم، گوجرانولہ، لاہور، گجرات اور سیالکوٹ میں بارشیں متوقع ہیں۔ جبکہ نارووال، حافظ آباد، منڈی بہاوالدین، اوکاڑہ، ساہیوال، قصور، جھنگ، سرگودھا، اور میانوالی میں بارشوں کا امکان ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں