ترشاوہ پھلوں کی بہتری کیلئے انتظامی طریقے اپنانا گزیر

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) زرعی یونیور سٹی فیصل آباد کے ماہرین نے باغبانوں کو آئندہ برسوں میں ترشاوہ پھلوں کی بگڑتی ہوئی صورتحا ل سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے نمٹنے کے لیے بہتر انتظامی طریقے اپنانا ناگزیر ہے۔ ماہرین کے مطابق بیماریوں سے پاک نرسریوں کا قیام، متوازن کھادوں کا استعمال اور جڑی بوٹیوں کی بروقت صفائی کے ذریعے ترشاوہ باغات کو گریننگ اور دیگر بیماریوں کے بڑھتے ہوئے خطرات سے محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹیکلچر سائنسز کے زیرِاہتمام ”ترشاوہ باغات کی دیکھ بھال برائے بہتر صحت اور پیداوار”کے عنوان سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ یہ سیمینار زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے سب کیمپس ٹوبہ ٹیک سنگھ میں چین پاکستان ہارٹیکلچر ریسرچ اینڈ ڈیمونسٹریشن سینٹر، ہواژونگ ایگریکلچرل یونیورسٹی چین کے اشتراک سے منعقد ہوا، جسے ہائر ایجوکیشن کمیشن اسلام آباد نے (CPECـCRGـ2ـ447) منصوبے کے تحت فنڈ فراہم کیا۔ سیمینار کا انعقاد وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی کی ہدایات پر کیا گیا۔ اس موقع پر پرنسپل ٹوبہ ٹیک سنگھ کیمپس ڈاکٹر راشد وسیم خاں، ڈاکٹر جعفر جسکانی، ڈاکٹر محمد اعظم، ڈاکٹر ثمر عباس نقوی اور پروفیسر لیو یونگ ژونگ نے خطاب کیا۔ ڈاکٹر راشد وسیم خاں نے ترشاوہ پھلوں کی پیداوار میں جدید باغبانی کے طریقوں کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مٹی کے تجزیے اور مؤثر انسدادِ کیڑوں جیسی سائنسی تکنیکوں کو اپنانے سے پھلوں کا معیار بہتر، پیداوار میں اضافہ اور خطے میں طویل المدتی پائیداری ممکن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی نے ترشاوہ پھلوں کی پیداوار، معیار اور استحکام کو شدید متاثر کیا ہے، جس کے لیے کلائمیٹ اسمارٹ زرعی طریقوں کو اپنانا وقت کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر محمد اعظم نے متوازن اور منظم کھادوں کے استعمال کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ترشاوہ درختوں کی صحت مند نشوونما اور پائیدار پیداوار ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ بروقت کانٹ چھانٹ، خاص طور پر خشک اور بیمار شاخوں کو ہٹانا، پیداوار اور معیار کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ڈاکٹر جعفر جسکانی نے کہا کہ ملک کے زیادہ تر ترشاوہ باغات غذائی قلت اور مائیکرو نیوٹرینٹس کی کمی کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ باغات میں مٹی، پانی اور پتوں کے باقاعدہ تجزیے کا فقدان ہے جس کے باعث کھادوں کے درست استعمال کی بنیاد قائم نہیں ہو پاتی۔ ہواژونگ ایگریکلچرل یونیورسٹی چین کے پروفیسر لیو یونگ ژونگ نے چین میں رائج جدید زرعی طریقوں پر روشنی ڈالی، جن میں مؤثر غذائی اجزاء کا انتظام، درختوں کی مناسب کانٹ چھانٹ، درست آبپاشی اور موسمی حالات کے مطابق کاشت کے طریقے شامل ہیں۔ ڈاکٹر ثمر عباس نقوی نے کہا کہ مصدقہ بیج نرسریوں کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ ترشاوہ شعبے کو درپیش مسائل پر قابو پایا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں