16

ترکیہ میں زلزلہ’ عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں

بالکسر (مانیٹرنگ ڈیسک) ترکیہ کے شمال مغربی صوبے بالکسر میں گزشتہ شام 6.1شدت کا خوفناک زلزلہ آیا جس نے لمحوں میں کئی عمارتوں کو ملبے کے ڈھیر میں بدل دیا۔ زلزلے کا مرکز قصبہ سندرگی تھا، جہاں سے دل دہلا دینے والی خبریں سامنے آئیں۔ترکیہ کے وزیر داخلہ کے مطابق 81سالہ خاتون کو ملبے سے زندہ نکالا گیا لیکن چند لمحوں بعد ہی وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئیں۔زلزلے سے 16عمارتیں مکمل طور پر زمین بوس ہو گئیں جبکہ 29افراد زخمی ہوئے۔ترکیہ کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی کے مطابق یہ جھٹکے مقامی وقت کے مطابق شام 7بج کر 53منٹ پر ریکارڈ کیے گئے اور ان کا اثر دور دراز استنبول تک محسوس کیا گیا۔سندرگی سے آنے والی تصاویر میں تباہ شدہ عمارتیں، مڑی ہوئی لوہے کی سلاخیں اور ملبے کے اونچے ڈھیر واضح طور پر دکھائی دے رہے ہیں۔صدر رجب طیب اردوان نے متاثرہ شہریوں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بحالی کے تمام اقدامات پر براہِ راست نظر رکھی جا رہی ہے، انہوں نے دعا کی کہ اللہ ہمارے ملک کو ہر آفت سے محفوظ رکھے۔خیال رہے کہ ترکیہ زلزلوں کے خطرناک زون میں واقع ہے جہاں تین بڑی ٹیکٹونک پلیٹس ملتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ یہاں زلزلے معمول کی بات ہیں۔قبل ازیں، فروری 2023 میں آنے والے 7.8 شدت کے قیامت خیز زلزلے نے ترکیہ کے جنوب مشرقی حصے کو تباہ کر دیا تھا، جس میں صرف ترکیہ میں 50 ہزار سے زائد اور پڑوسی ملک شام میں مزید 5ہزار افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں