54

ترکیہ کے صدر کے دورہ سے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوئے (اداریہ)

ترکیہ کے صدر رجب طیب اردگان کے پاکستان کے حالیہ دورے کا مقصد پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانا اور مختلف شعبوں میں تعاون کو بڑھانا تھا وزیراعظم محمد شہباز شریف اور ترکیہ کے صدر رجب طیب کی زیرصدارت اس سیشن میں دوطرفہ تعلقات کی تزویراتی سمت پر توجہ مرکوز کی گئی ترکیہ کے صدر نے صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم نے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا ترکیہ کے صدر اور وزیراعظم پاکستان نے اس فورم سے خطاب کیا جس میں دونوں ممالک کے سرکردہ سرمایہ کاروں اور کاروباری افراد کو تعاون کے مواقع تلاش کرنے کیلئے اکٹھا کیا، دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا جس میں تجارت’ سرمایہ کاری’ دفاع’ توانائی اور تعلیم جیسے شعبوں پر توجہ دی جائے گی، یہ دورہ پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا دونوں ممالک کے درمیان تاریخی برادرانہ تعلقات استوار ہوئے، پاکستان اور ترکیہ کے دوطرفہ تعلقات کی ایک بھرپور تاریخ ہے جس کی جڑیں ترکی کی جنگ آزادی سے ملتی ہیں پاکستان کے مسلمانوں نے زوال پذیر سلطنت عثمانیہ کو مالی امداد بھی بھیجی تھی یہ تاریخی رشتہ ایک مضبوط اسٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل ہوا ہے جس میں دونوں ممالک ثقافتی’ مذہبی اور علاقائی سیاسی تعلقات کا اشتراک کرتے ہیں پاکستان 1947ء میں ترکی کی آزادی کو تسلیم کرنے والے پہلے ممالک میں شامل تھا دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ فوجی تعلقات ہیں ترکی پاکستانی فضائیہ کے افسران کو تربیت فراہم کرتا ہے اور پاکستان ترکی کو اسلحہ فراہم کرتا ہے 2000 میں ترکیہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ اور علاقائی استحکام کو فروغ دینے میں تعاون بڑھانے کیلئے پاکستان اور افغانستان کے ساتھ سہ فریقی سربراہی اجلاس کا عمل شروع کیا تھا 2020ء میں ترک صدر رجب طیب اردگان نے پاکستان کا دورہ کیا جہاں انہوں نے پاکستانی پارلیمنٹ سے خطاب کیا اور کشمیر پر پاکستان کے موقف کے لیے ترکی کی حمایت کا اعادہ کیا دونوں ممالک اپنے اقتصادی تعلقات کو وسعت دے رہے ہیں ترکی پاکستان میں انفراسٹرکچر’ توانائی اور دفاع سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کر رہا ہے دونوں ملک دفاعی شعبے میں بھی تعاون کر رہے ہیں مجموعی طور پر پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تعلقات مضبوط بنیادوں پر استوار ہیں اور مختلف شعبوں میں مضبوط شراکت داری کی شکل اختیار کر رہے ہیں” بلاشبہ ترکیہ پاکستان کا بہترین دوست ہے اور اس نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا بھرپور ساتھ نبھایا ہے خاص طور پر اس نے تنازعہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کے موقف کی بھرپور حمایت کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ترکیہ اس حوالے سے پاکستان کے شانہ بشانہ ہے قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے ترکیہ نے متعدد بار پاکستان کی بھرپور مدد کی ترکیہ کی ترقی اس کی ٹیکنالوجی سے پاکستان بھرپور فوائد حاصل کر رہا ہے خاص طور پر تجارتی تعلقات کو بہتر سے بہتر بنانا پاکستان کی خواہش ہے قبل ازیں بھی ترکیہ کے صدر متعدد بار پاکستان کا سرکاری دورہ کر چکے ہیں اور ان کے دورہ کا مقصد پاکستان کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو مضبوط بنانا اور سرمایہ کاری کے حوالے سے یقین دہانی کرانا ہے حالیہ دورہ پاکستان بھی اسی سلسلے کی کڑی قرار دیا جار ہا ہے جس سے پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات مصبوط سے مضبوط تر ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں