17

تعلیم، سماج اور پاکستان

پاکستان کے قیام کو ستتر برس سے زائد عرصہ بیت چکا ہے، مگر یہ سوال آج بھی اپنی پوری شدت کے ساتھ ہمارے سامنے موجود ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام سماج سازی، شہری ذمہ داری اور کمیونٹی انگیجمنٹ میں موثر کردار ادا کرنے والے افراد کیوں پیدا نہیں کر پا رہا؟ تعلیم کسی بھی ریاست کے لیے محض ہنر یا روزگار کا ذریعہ نہیں ہوتی، بلکہ یہ اجتماعی شعور، سماجی اقدار اور قومی کردار کی تشکیل کا بنیادی ستون سمجھی جاتی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں تعلیم کا یہ کردار وقت کے ساتھ کمزور ہوتا چلا گیا۔قیامِ پاکستان کے ابتدائی برسوں میں، جب وسائل محدود اور ادارے نوزائیدہ تھے، تب بھی تعلیم کو قومی تعمیر کا اہم ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔ قائداعظم محمد علی جناح نے 1947 کی اپنی تقاریر میں واضح طور پر تعلیم کو کردار سازی، نظم و ضبط اور سماجی ذمہ داری سے جوڑا۔ 1959 کی شریف کمیشن رپورٹ (National Commission on Education)میں بھی اس امر پر زور دیا گیا کہ تعلیم کا مقصد صرف علمی مہارت نہیں بلکہ ایک ذمہ دار شہری کی تیاری ہے۔ تاہم عملی سطح پر ان سفارشات پر تسلسل کیساتھ عمل نہ ہو سکا۔ 1960 اور 1970 کی دہائیوں میں تعلیم کو قومی ترقی اور انسانی وسائل کی تیاری سے جوڑنے کی کوشش کی گئی۔ 1972 کی تعلیمی پالیسی میں مساوا ت اور عوامی رسائی پر زور دیا گیا، مگر سماجی علوم، شہری تعلیم اور عملی سماجی تربیت کو ثانوی حیثیت حاصل رہی۔ اس دور میں تعلیم زیادہ تر ریاستی بیانیے اور معاشی ضروریات کے گرد گھومتی رہی، جس کے نتیجے میں سماجی شرکت اور تنقیدی شعور پروان نہ چڑھ سکا۔1980 کی دہائی میں نظریاتی تبدیلیوں نے تعلیمی نظام کو مزید تقسیم کر دیا۔ نصاب میں یکسانیت کے بجائے تفریق بڑھتی گئی اور سرکاری، نجی اور دینی نظامِ تعلیم کے درمیان خلیج واضح ہوتی چلی گئی۔ اس تقسیم نے ایک مشترکہ قومی سماجی وژن کو جنم لینے سے روک دیا۔ ایک ہی معاشرے میں مختلف فکری دنیائوں کے حامل طلبہ تیار ہونے لگے، جن کے درمیان سماجی ہم آہنگی کمزور پڑتی گئی۔1990 کے بعد عالمگیریت، نجکاری اور مارکیٹ اکانومی کے اثرات نے تعلیم کو ایک سماجی ادارے کے بجائے ایک معاشی صنعت بنا دیا۔1998 اور2009 کی قومی تعلیمی پالیسیوں میں معیار اور رسائی کی بات تو کی گئی، مگر شہری ذمہ داری، کمیونٹی سروس اور سماجی اخلاقیات جیسے عناصر محض دستاویزات تک محدود رہے۔ والدین اور تعلیمی اداروں دونوں کے لیے تعلیم کا مقصد بہتر ملازمت اور معاشی تحفظ بن گیا۔ نتیجتا ایک ایسا گریجویٹ سامنے آیا جو ڈگری یافتہ تو ہے، مگر سماج سے جڑا ہوا نہیں۔غیر نصابی سرگرمیاں، جو دنیا بھر میں شخصیت سازی کا لازمی حصہ سمجھی جاتی ہیں، پاکستان میں وقت کے ضیاع کے مترادف قرار پائیں۔ مباحثے، طلبہ یونینز، کمیونٹی ورک اور رضاکارانہ خدمات کو یا تو محدود کر دیا گیا یا مکمل طور پر ختم کر دیا گیا۔ طلبہ کو سوال کرنے کے بجائے رٹا لگانے، اور اختلافِ رائے کے بجائے خاموشی اختیار کرنے کی تربیت دی گئی۔ اس کا نتیجہ ایک ایسا سماج ہے جہاں تعلیم یافتہ افراد کی کمی نہیں، مگر فعال شہری ناپید ہیں۔دنیا کے کامیاب تعلیمی ماڈلز اس کے برعکس تصویر پیش کرتے ہیں۔ فن لینڈ میں تعلیم کا بنیادی مقصد ذمہ دار شہری تیار کرنا ہے، جہاں سماجی مسائل، کمیونٹی پروجیکٹس اور تنقیدی مکالمہ نصاب کا لازمی حصہ ہیں۔ جاپان میں ابتدائی تعلیم ہی سے نظم و ضبط، اجتماعی کام اور سماجی خدمت کو عملی شکل دی جاتی ہے۔ کینیڈا اور جرمنی میں Service Learning کو نصاب سے جوڑ کر طلبہ کو براہِ راست کمیونٹی کے مسائل سے روشناس کرایا جاتا ہے۔پاکستان میں بھی اصلاح کا راستہ موجود ہے، مگر اس کے لیے سنجیدہ فیصلوں کی ضرورت ہے۔ نصاب میں شہری تعلیم اور سماجی اخلاقیات کو محض ابواب کے طور پر نہیں بلکہ عملی سرگرمیوں کے ساتھ شامل کرنا ہوگا۔ اساتذہ کی تربیت میں تنقیدی سوچ، مکالمہ اور سماجی شعور کو مرکزی حیثیت دینا ہوگی۔ تعلیمی اداروں اور مقامی کمیونٹیز کے درمیان مضبوط روابط قائم کرنا ناگزیر ہے۔آخرکار یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ تعلیم کسی قوم کا اجتماعی ضمیر ہوتی ہے۔ اگر یہ ضمیر خاموش ہو جائے تو سماج بے سمت ہو جاتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم تعلیم کو دوبارہ سماج سازی، شہری ذمہ داری اور اجتماعی بھلائی کا ذریعہ بنائیں، تاکہ آنے والی نسلیں نہ صرف جدید دنیا کے تقاضوں کو سمجھ سکیں بلکہ ایک مہذب، ذمہ دار اور فعال پاکستانی معاشر ے کی تشکیل میں بھی اپنا کردار ادا کر سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں