77

تفریح کے نام پر تھیٹرز میں فحش ڈانس معمول بن گیا

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) انٹرٹینمنٹ کے نام پر چلنے والے تھیٹرز میں خواتین فنکاروں کی جانب سے فحاشی کو سرعام فروغ دینے کا سلسلہ عروج پکڑ گیا۔ضلعی انتظامیہ آارٹس کونسل، سنسر کمیٹی ،پولیس،ودیگر ادارے سرعام فحاشی کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہوگئی۔ تفصیل کے مطابق شہر میں اس وقت پانچ کے قریب تھیٹرز ہیں جہاں پر مرد وخواتین فنکاروں کا کام اپنے طنز و مزاح سے شہریوں کو خوشیاں بکھیرنا ہے لیکن کمزور کمان ،اعلیٰ افسران کی عدم توجہ اور ماتحت عملے کی ملی بھگت سے تمام تھیٹرز میں خواتین فنکاروں نے فحاشی کو فروغ دینا شروع کیا ہوا ہے ،آرٹس کونسل کی جانب سے تین خواتین فنکاروں آفرین خان،صوبیہ خان،اور زرا شاہ کے متعلق باقاعدہ طور پر ضلعی انتظامیہ کو لکھ کر بھجوایا ہوا ہے کہ تینوں خواتین فنکار دوران پرفارمنس وفحاشی کو ترجیح دے رہی ہیں، تینوں کو وارننگ بھی جاری کی ہے لیکن اس کے باوجود تینوں خواتین روزانہ کی بنیاد پر فحش ڈانس کرتی ہیں۔ آرٹس کونسل کی جانب سے منروا تھیٹر کو بھی وارننگ دی ہے کہ ایسے بے ہودہ ڈانس کو نہ دکھایا جائے۔ ہمارے ذرائع کا کہنا ہے کہ تھیٹر انتظامیہ کو ٹس سے مس نہیں ہوئی آرٹس کونسل نے سفارش کی گئی تھی کہ منروا تھیٹر کو بھی سیل کیا جائے ۔لیکن ضلعی انتظامیہ کے چند ایسے ٹھرکی مفت ڈرامہ دیکھنے والے اہلکار ہیں جن کی خواتین فنکاروں کے ساتھ اور تھیٹر انتظامیہ کے ساتھ ملی بھگت جس وجہ سے آرٹس کونسل کی جانب سے لکھے گئے متعدد لیٹروں کو دبا لیا گیا ہے اور ان پر کارروائی نہیں ہو سکی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سینسر کمیٹی کے ممبران میں سے آج تک ایک بھی ممبر تھیٹرز میں نہیں گیا تمام ممبران اپنے ماتحت عملے کو بھیج دیتے ہیں ماتحت عملہ اپنے دوستوں ،رشتہ داروں کو مفت ڈرامہ دکھاتے ہیں اس وجہ سے فیصل آباد کے تھیٹروں میں فحاشی زور پکڑ رہی ہے۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ منروا تھیٹر کے باہر ابھی بھی فحش قسم کی بڑے سائز کی فلیکس آویزاں کی گئی ہے جس میں آفرین خان سرعام فحش حرکات کر رہی ہے یہ فلیکس اور فحش مجرے ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں کے منہ پر زور دار طمانچہ ہے۔ کمشنر سلوت سعید اور ڈپٹی کمشنر عبد اللہ نیئر شیخ خود نوٹس لیں تاکہ اس پر فوری قابو پایا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں