تمام شعبوں میں ترقی وقت کی اہم ضرورت ہے

نارووال(بیورو چیف)وفاقی وزیر منصوبہ بندی،ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ ڈیری کے شعبے میں جدت لا کر ہم اپنے کسانوں کو خوشحال بناسکتے ہیں ،ہمیں لائیوسٹاک سکیٹر سے ملکی ضرورت کے ساتھ ایکسپورٹ کیلئے فاضل پیداواری صلاحیت پیدا کرنی ہوگی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعلی پنجاب انیشی ایٹو برائے تجدید لائیوسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ کے حوالے سے ضلع نارووال کے پیرا ویٹرنری سٹاف میں موٹرسائیکل تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔احسن اقبال نے کہا کہ وزیراعلی پنجاب نے ویٹرنری کے شعبے کی ترقی کیلئے یہ موٹر سائیکل آپ لوگوں کو مہیا کی ہیں۔اس پروگرام سے مویشی پال حضرات کی خدمت میں تیزی اور بہتری آئے گی۔آپ کسانوں کو غربت سے نکالنے کے مشن پر کام کررہے ہیں ،اس وقت ملک میں تقریباً 25 کروڑ مویشی ہیں،ڈیری کے شعبے میں جدت لاکر ہم اپنے کسانوں کو خوشحال بناسکتے ہیں ۔ وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کی قومی اڑان اس وقت تک مکمل نہیں ہوگی جب تک سارے شعبہ جات اپنے حصے کا کام نہ کریں ۔زرعی معیشت کا تقریباً 60 فیصد حصہ لائیوسٹاک پر مشتمل ہے۔اس وقت پاکستان دنیا میں دودھ پیدا کرنے والا پانچواں بڑا ملک ہے ۔مگر ہماری دودھ کی پیدا وار فی جانور بہت کم ہے ،ڈیری سیکٹر میں ابھی بہت سارا کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ڈیری سیکٹر میں ہم ابھی تک خام مال تک محدود ہیں ۔ہمیں دودھ کی بائی پراڈکٹس کی انڈسٹری میں جدت لانی ہوگی ۔ہمیں خام مال کی سیل کی بجائے بائی پراڈکٹس کی طرف جانا ہوگا ۔ہمیں دودھ اور گوشت کی پیداوار میں اپنی مارکیٹ کی ضروریات کو پورا کرنے کے ساتھ ایکسپورٹ کیلئے بھی سٹاک پیدا کرنا چاہیے۔ہماری صوبائی حکومتوں کو زراعت کے ساتھ ساتھ لائیوسٹاک کی ترقی پر بھی فوکس کرنا ہوگا۔ڈیری ڈویلپمنٹ کی بابت کسانوں کو خوشحال بنایا جاسکے گا۔احسن اقبال نے کہا نارووال میں ویٹرنری یونیورسٹی بنانے کا مقصد نارووال کے ڈیری انفراسٹرکچر میں جدت لانا ہے۔ہمارے کسان آج بھی ڈیری اور ایگریکلچر میں دقیانوسی طریقوں کو اپنائے ہوئے ہیں۔ویٹرنری یونیورسٹی اور لائیوسٹاک کو چاہیے کہ ضلع نارووال کی ڈیری پراڈکٹس کی بنیاد پر میپنگ کرے۔ہماری زرعی معیشت میں پولٹری ایک اہم سیکٹر ہے اس پر توجہ مرکوز کرکے ہمیں ڈومیسٹک ضروریات کو پورا کرنا چاہیے ،ڈیری کے شعبے کی ترقی لائیوسٹاک ڈیپارٹمنٹ کے اہلکاروں کا مشن ہونا چاہیے۔ہمیں لائیوسٹاک سکیٹر سے ملکی ضرورت کے ساتھ ایکسپورٹ کیلئے فاضل پیداواری صلاحیت پیدا کرنی ہوگی۔ہر شعبے کو اپنی برآمدات کو بڑھانے کی کوشش کرنی چاہیے ۔جب تک میڈ ان پاکستان پراڈکٹس بیروی دنیا کی مارکیٹس میں نہیں پہنچتی تب تک ہمارے برآمداتی حجم میں بہتری نہیں آئے گی ۔میری خواہش ہے کہ نارووال زراعت اور لائیوسٹاک کے شعبے میں سب سے ترقی یافتہ ضلع بنے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں