52

تنازعہ کشمیر کا سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل ضروری (اداریہ)

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوتیریس سے ملاقات کی جس میں سرحد پار دہشت گردی’ موسمیاتی تبدیلی اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا وزارت خارجہ سے جاری بیان کے مطابق نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے امن سلامتی’ ترقی اور ماحولیاتی تبدیلی سمیت عالمی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے اقوام متحدہ کے مرکزی کردار اور اس کے لیے پاکستان کی جانب سے بھرپور حمایت کا اعادہ کیا انہوں نے اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے ایک غیر مستقل رکن کی حیثیت سے عالمی امن وسلامتی کو فروغ دینے کیلئے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کو اجاگر کیا نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے تنازعہ مقبوضہ کشمیر کے سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق منصفانہ حل ضروری قرار دیا،، پاکستان نے ہمیشہ سفارتی سیاسی اخلاقی طور پر تنازعہ کشمیر کے حل پر زور دیا ہے بھارت ڈھٹائی کے ساتھ کشمیریوں کو غلام بنانے پر تلا ہوا ہے کشمیری عوام کو ریاستی دہشت گردی کے ذریعے دبانے رائے تبدیل کرنے مذہب کی تبدیلی اور ہندو آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کے تمام حربے استعمال کر رہا ہے اس کی بہت شد ومد کے ساتھ عالمی سطح پر آواز اٹھانے اور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ غزہ پر ظلم وستم اور عالمی سیاست کا رخ ہونے کی وجہ سے کشمیر سے بھارت نظریں بچانے میں مصروف ہے مگر ہمیں اس پر اپنا موقف بھرپور طریقے سے لیکر چلنا چاہیے یہ پاکستان کی بقاء کا مسئلہ ہے یہ بات قابل غور ہے کہ پاکستان اس بات پر اصرار کرتا رہا ہے کہ بھارت کو مذاکرات شروع کرنے کی پیشگی شرط کے طور پر کشمیر میں اپنے یکطرفہ اقدامات کو کالعدم کرنا چاہیے بھارت کی مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے اسے بھارت کا حصہ بنانے کی کوشش قابل مذمت ہے تنازعہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کا ایک بڑا نکتہ بنا ہوا ہے پاکستان کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کے لیے بین الاقوامی حمایت کا خواہاں ہے،، چونکہ پاکستان دو سال کیلئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا غیر مستقل نان ویٹو ممبر منتخب ہو چکا ہے لہٰذا وہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر پاکستان سلامتی کونسل میں بحث کیلئے دبائو ڈال سکتا ہے بھارت کے یکطرفہ اقدامات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو عالمی برادری کے سامنے مؤثر انداز میں پیش کر سکتا ہے پاکستان کو دفاعی اور سکیورٹی کے چیلنجز کا سامنا ہے پاکستان خطے میں اسلحے کی دوڑ’ بھارت کی جدید دفاعی صلاحیتوں اور امریکی دفاعی امداد پر خدشات کا اظہار کر سکتا ہے جنوبی ایشیا میں توازن برقرار رکھنے کیلئے عالمی برادری کو اعتماد میں لے سکتا ہے افغانستان اور علاقائی استحکام پاکستان’ افغانستان میں استحکام کے حوالے سے اپنا کردار سلامتی کونسل میں مزید اجاگر کر سکتا ہے کیونکہ بھارت کی افغانستان میں موجودگی پاکستان کے لیے اسٹرٹیجک خدشات کا باعث ہے پاکستان کا سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کے طور پر انتخاب عالمی سطح پر اس سفارتی پوزیشن کو مضبوط بنانے کا ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے خاص طور پر امریکہ بھارت قربت سے پیدا ہونے والے چیلنجز کے تناظر میں پاکستان اس فورم کو مختلف طریقوں سے اپنے قومی طریقوں سے اپنے قومی مفادات کے تحفظ کیلئے استعمال کر سکتا ہے پاکستان سلامتی کونسل کے فورم پر چین’ ترکیہ’ سعودی عرب اور دیگر دوست ممالک کے ساتھ مل کر اپنی سفارتی حکمت عملی کو مستحکم کر سکتا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کی حیثیت سے پاکستان سب سے زیادہ کردار مقبوضہ کشمیر کے تنازعہ کے حل کیلئے ادا کرے تاکہ بھارت کے مظالم کا شکار نہتے کشمیری عوام کو حق رائے دیہی حاصل ہو اور ان کی تحریک آزادی کامیابی سے ہمکنار ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں