126

تنازعہ کشمیر کے حل پر توجہ کی ضرورت (اداریہ)

امریکی صدر ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر حل کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کو اپنے تنازعات حل کرنے چاہئیں کشمیر کے مسئلے کے حل کیلئے مل کر کام کریں گے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں امریکی صدر نے لکھا کہ پاکستان اور بھارت کے ساتھ مل کر کام کروں گا اور دیکھوں گا کہ اس تنازعہ کا کوئی حل سکتا ہے، وزیراعظم محمد شہباز شریف نے مسئلہ کشمیر حل کرانے مین تعاون کی پیشکش پر صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا، ترجمان دفتر خارجہ پاکستان کا کہنا ہے کہ کشمیر پر ٹرمپ کے بیان کو سراہتے ہیں اپنے حالیہ بیان میں امریکی صدر نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے ساتھ نہ صرف سفارتی سطح پر تعاون بڑھایا جائے گا بلکہ دونوں ممالک کے ساتھ تجارت میں بھی اضافہ کروں گا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان اس وقت آیا ہے جب کشمیر کا مسئلہ عالمی توجہ حاصل کر رہا ہے اقوام متحدہ سمیت کئی ممالک اس تنازع کے پُرامن حل کیلئے کوشش کر رہے ہیں، بھارت جنگی جنون میں اس قدر آگے بڑھ چکا تھا کہ اس نے پاکستان کے خلاف جارحیت شروع کر دی جب تک بھارت جارحیت پرتلا ہوا تھا امریکا خود کو غیر جانبدار کہتے ہوئے ایک طرف بیٹھ کر تماشا دیکھ رہا تھا لیکن جیسے ہی آپریشن بنیان المرصوص کے نتیجے میں صورتحال نے پلٹا کھایا اور بھارت کا وجود خطرے میں پڑتا دکھائی دیا تو امریکی صدر ٹرمپ اور انکی کابینہ کے کچھ ارکان بیچ میں کود پڑے’ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ تو یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اس سلسلے میں مودی سرکار نے ترلے منتیں کر کے امریکی حکومت کو اس بات کیلئے آمادہ کیا کہ کسی بھی طرح ان کی جان چھڑائی جائے ورنہ پاکستان افواج کی طرف سے کی جانے والی کارروائیاں بھارت کو دوبارہ کھڑا ہونے کے قابل نہیں چھوڑیں گی اس کے بعد امریکی حکومت نے جنگ بندی کے حوالے سے اپنا کلیدی کردار ادا کیا اور پھر صدر ٹرمپ نے اپنے ہی سوشل میڈیا اکائونٹ پر اعلان کیا کہ امریکہ کی ثالثی میں بھارت اور پاکستان نے فوری جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے، بھارتی جارحیت کی وجہ سے جو صورتحال پیدا ہوئی اس نے صرف خطے میں ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے مستقبل کو خطرات سے دوچار کر دیا تھا، پاکستان دہائیوں سے کہتا چلا آ رہا ہے کہ تنازع کشمیر کو مستقل بنیادوں پر حل کئے بغیر جنوبی ایشیا میں دیرپا امن قائم نہیں ہو سکتا، اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ بھارت اور پاکستان کی قیادت کے ساتھ مل کر مسئلہ کشمیر کا حل تلاش کرنے کی کوشش کریں گے، بین الاقوامی برادری کو اب یہ بات اچھی طرح سمجھ آ جانی جاہیے کہ بھارت کی طرف سے بار بار کی جانے والی شرپسندی کے پیچھے ایک بڑی اور اہم وجہ یہ ہے کہ جموں وکشمیر پر اس نے غیر قانونی قبضہ کیا ہوا ہے جسے پاکستان کسی بھی صورت قبول نہیں کرے گا لہٰذا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اس مسئلے کو حل کرانے اور اس کے ذریعے پوری دنیا کا مستقبل محفوظ بنانے کیلئے فوری اور ٹھوس اقدامات کئے جائیں’ امریکی صدر ٹرمپ نے تنازعہ کشمیر کو حل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے تو اس کو حل کرنے کیلئے امریکہ پاکستان اور بھارت کو مذاکرات کی میز پر لائے اور اس مسئلہ کو حل کرانے کیلئے اپنا کردار ادا کرے اگر صدر ٹرمپ نے تنازعہ کشمیر کو حل کرا دیا تو انکی عالمی مقبولیت میں اضافہ ہو گا مسئلہ کشمیر حل پاکستان اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق چاہتا ہے امریکی صدر کو چاہیے کہ وہ پاکستان اور بھارت کے درمیان وجہ تنازع مسئلہ کشمیر کو حل کرانے کیلئے آگے بڑھیں اور مظلوم کشمیریوں کو استصواب رائے کا حق دلانے میں ان کی مدد کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں