توانائی کے شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی دلچسپی بڑھ گئی

اسلام آباد (بیوروچیف)وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے موثر، فعال اور پائیدار توانائی شعبے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی معیشت کے لیے توانائی کے شعبے کی وہی اہمیت ہے جو انسانی جسم کے لیے آکسیجن کی ہوتی ہے ،گیس سیکٹر کے بڑھتے ہوئے گردشی قرضے کی صورت میں ہونے والا نقصان بغیر کسی بجٹ سپورٹ کے روک دیا گیا ہے، جون 2025 تک اصل رقم تقریباً 1,831بلین روپے تک پہنچ چکی تھی جو ستمبر 2025 تک کم ہو کر 1,816بلین روپے رہ گئی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کی جانب سے منعقدہ پاکستان گورننس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کیا جہاں انہوں نے توانائی کے شعبے سے متعلق حکومت کیاصلاحاتی ایجنڈے اور سٹریٹجک سمت کو اجاگر کیا۔ وفاقی وزیر نے فورم کے کامیاب انعقاد پر وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال کی کاوشوں کو بھی سراہا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے کیے گئے اہم اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر کہا کہ ایک جامع اصلاحاتی روڈمیپ کا خاکہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ توانائی کے شعبے کی منصوبہ بندی میں زیادہ ہم آہنگی کو فروغ دیا جا رہا ہے،حالیہ اقدامات میں وزیراعظم محمد شہباز شریف کی سربراہی میں کابینہ کمیٹی برائے توانائی کی بحالی شامل ہے جبکہ معروف بین الاقوامی کنسلٹنٹس ووڈ میکینزی کے ساتھ ایک جامع منصوبہ بندی مشق بھی کی گئی ہے جس میں پاور ڈویژن کے آئی جی سی ای پی فریم ورک کے ساتھ تمام توانائی سپلائیز اور ذرائع کو یکجا کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی وزیر پاور کے ساتھ بدھ کو ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں انٹیگریٹڈ انرجی سیکریٹریٹ کو فعال اور مستقل بنانے کے لیے لائحہ عمل پر کام کیا گیا تاکہ بہتر ہم آہنگی اور طویل المدتی منصوبہ بندی کو یقینی بنایا جا سکے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ گیس کے گردشی قرضے سے متعلق گفتگو کو باخبر انداز میں ہونا چاہیے۔ رپورٹ شدہ اعداد و شمار میں اضافہ بنیادی طور پر جمع شدہ سود اور ایل پی ایس کی عکاسی کرتا ہے۔ ایک جامع ادائیگی منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے جو وزیرِاعظم کو پیش کیا جائے گا۔وفاقی وزیر نے فورم کو آگاہ کیا کہ یو ایف جی سے متعلق ایک آزادانہ یو ایف جی سٹڈی شروع کی گئی ہے تاکہ اوگرا کے ذریعے یو ایف جی الائونس کے معیار کو مزید سخت بنایا جا سکے۔ پٹرولیم پالیسیوں کو اپڈیٹ کیا گیا ہے اور توانائی کے تحفظ کو بہتر بنانے کے لیے نئی سخت گیس پالیسی کا اعلان کیا گیا ہے۔ حیدرآباد میں شیل پائلٹ منصوبہ جاری ہے جبکہ ڈی جی پی سی دفتر کی تنظیمِ نو اور بحالی عالمی بینک کی رہنمائی میں کی جا رہی ہے۔وفاقی وزیر نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے تاہم انہوں نے زور دیا کہ حکومت نے سب سے اہم ابتدائی اقدامات اٹھا لیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے توانائی شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں اضافہ ہو رہا ہے،ترکش پیٹرولیم اسلام آباد میں اپنا دفتر قائم کر رہی ہے، ایس او سی اے آر کا وفد حال ہی میں پاکستان کا دورہ کر چکا ہے جبکہ کویت فارن پیٹرولیم ایکسپلوریشن کمپنی کے آئندہ مہینوں میں دورے کی توقع ہے۔وفاقی وزیر نے گیس کے شعبے میں مزید ڈی ریگولیشن کے حکومتی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے مارکیٹ فورسز کومتحرک کرنے، آپریشنل کارکردگی بہتر بنانے اور پاکستان کی توانائی منڈیوں میں نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں