31

توانائی گردشی قرضہ میں کمی کیلئے 18بینکوں سے معاہدہ (اداریہ)

توانائی گردشی قرضہ کم کرنے کیلئے 18بینکوں کے ساتھ 12.75 کھرب کا تاریخی معاہدہ’ ادائیگی بجلی صارفین کریں گے اقدام کو آئی ایم ایف کے 7ارب ڈالر پروگرام کا اہم حصہ قرار دیا گیا ہے، 617ارب کے نئے قرضے 6 سال میں 24سہ ماہی اقساط میں واپس ہونگے، صارفین پہلے ہی فی یونٹ 3.23 روپے سرچارج ادا کر رہے ہیں 683ارب بی ایچ ایل کے واجبات پر 592ارب آئی پی پیز کے بقایاجات کیلئے استعمال کئے جائیں گے، حکام کے مطابق اقدام سے توانائی شعبہ مستحکم ہو گا تاریخی معاہدہ سے ملک کے توانائی شعبے کے تباہ کن گردشی قرضہ کو کم کرنے میں مدد ملے گی اس قرض کی واپسی کا بوجھ بجلی صارفین پر ڈالا جائے گا یہ معاہدہ پاکستان کے 7ارب ڈالر کے آئی ایم ایف پروگرام کا حصہ ہے جو توانائی کے شعبے میں سخت اصلاحات اور طویل المدتی مالی نظم وضبط کا تقاضا کرتا ہے اس فنانسنگ پیکج کا مقصد پرانے قرضوں کو مستقل طور پر ختم کرنا ہے تاکہ قومی خزانے پر بوجھ نہ پڑے منصوبے کے تحت کمرشل بینک 617 ارب روپے کے نئے قرضے رعایتی شرح پر KIBOR مائنس 0.90بیس پوائنٹس فراہم کریں گے جنہیں چھ سال میں 24سہ ماہی اقساط میں واپس کیا جائے گا واپسی کے لیے وہی ڈیٹ سروس سرچارج استعمال ہو گا جو صارفین سے وصول کیا جا رہا ہے اس سے سالانہ 323 ارب روپے اکٹھے ہوں گے کل 1275 ارب روپے میں سے 683 ارب روپے پاور ہولڈنگ کمپنی (PHL) کے واجبات ادا کرنے کیلئے جائیں گے جبکہ 1592 ارب روپے انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز (IPPS) کے بقایاجات کی ادائیگی کے لیے استعمال ہوں گے،، توانائی گردشی قرضہ میں کمی کیلئے 18بینکوں کے ساتھ تاریخی معاہدہ واقعی توانائی کے شعبے کے لئے بڑا اہم ہے مگر اس گردشی قرضہ کی ادائیگی کیلئے بجلی صارفین پر بوجھ ڈالنے کا فیصلہ شائد صارفین کیلئے اچھی خبر نہ ہو کیونکہ بجلی صارفین تو پہلے ہی متعدد قسم کے چارجز کی ادائیگی بجلی بلوں میں کر رہے ہیں اب ایک نئی افتاد ان پر ڈالنے سے ان کا بی پی بڑھانے کی کوشش ہی قرار دیا جا سکتا تھا غریب لوگ تو پہلے ہی مہنگائی کے ہاتھوں عاجز ہیں بجلی کے بلوں نے ان کا گھریلو بجٹ اتھل پتھل کر رکھا ہے وہ پہلے سے مختلف مدات میں ٹیکس ادا کر رہے ہیں اب ان پر نیا ٹیکس لگایا جا رہا ہے جو زیادتی کے مترادف ہو گا، گردشی قرضوں میں کمی کے حوالے سے یہ بتایا گیا ہے کہ اقدام آئی ایم ایف کے 7ارب ڈالر پروگرام کا حصہ ہے اس فیصلے سے ظاہر ہو رہا ہے جو قرضے ہماری حکومت لے رہی ہے اب اس کی ادائیگی کیلئے عام آدمی کا گلا گھونٹا جائے گا اگر حکومتی ادارے اپنے اخراجات کم کریں اشرافیہ کو مفت بجلی’ پٹرول’ گیس اور اعلیٰ افسران کو دیگر مراعات دینا بند کر دیا جائے تو قومی خزانے پر سے بہت سا بوجھ ختم ہو سکتا ہے مگر یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ حکمران اشرافیہ سے مراعات واپس لینے میں سنجیدہ کیوں نہیں؟ خدارا اس ملک کے عوام پر رحم کیا جائے ان کو سکون سے زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کئے جائیں قرضے حکمران لیں اور بے چار عوام اس کا بوجھ اتاریں یہ کہاں کا انصاف ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں