تیجس طیاروں کے حادثات ‘مودی کا میڈ ان انڈیا دفاعی منصوبہ ناکامی سے دو چار

ممبئی (مانیٹرنگ ڈیسک) تیجس طیاروں کے حادثات نے میڈ اِن انڈیا دفاعی منصوبے کی ناکامی بے نقاب کردی۔بھارت میں تیار ہونیوالے جنگی طیارے تیجس نے نام نہادمیڈ ان انڈیا منصوبے کی ناکامی اور ناقص دفاعی صلاحیت کی قلعی کھول دی، طیاروں کی تباہی کے ساتھ جنگی جنون میں مبتلا مودی کے وشو گرو بننے کے تمام مکروہ عزائم زمین بوس ہو گئے۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق جنگی طیاروں کی تباہی کے بڑھتے ہوئے واقعات انڈیا کا بڑی فوجی طاقت بننے کا خواب چکنا چور کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 7 فروری 2026 کو تیجس کے تیسرے حادثے کے بعد بھارتی فضائیہ نے 30 تیجس طیاروں کی پوری فلیٹ کو خاموشی سے گراونڈ کر دیا ہے۔رپورٹ کے مطابق تیجس پروگرام 1981 میں شروع ہوا جبکہ پہلی ٹیسٹ فلائٹ 2001 میں ہوئی، مگر پھر بھی بھارت اپنا انجن تیار نہیں کر سکا،تیجس طیاروں کے انجن، ایویونکس، ریڈار سسٹمز اور ہتھیار امریکہ اور اسرائیل سے درآمد کیے گئے، کسی طیارے کی پوری فلیٹ کو گراونڈ کرنا سنگین تکنیکی مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے۔رپورٹ کے مطابق بھارت کے پاس ففتھ جنریشن طیارہ موجود نہیں اور روس کے SU-57 میں دلچسپی کے باوجود امریکی ناراضگی کا خدشہ ہے،6 مارچ کو روسی ساختہ SU-30MKI جنگی طیارہ بھی جورہٹ کے قریب حادثے کا شکار ہوچکا ہے۔ذرائع کے مطابق عسکری تقاضوں کے مطابق بھارتی فضائیہ کو کم از کم 42 اسکواڈرن درکار ہیں، مگر تعداد مسلسل کم ہو رہی ہے،تیجس کی گراونڈنگ، اسکواڈرن کی کمی اور آپریشنل مسائل بھارت کی فضائی طاقت کی ساختی کمزوریوں کو ظاہر کرتے ہیں۔دفاعی ماہرین کے مطابق تیجس سمیت جنگی طیاروں کے مسلسل حادثات بھارتی فضائیہ کی تکنیکی اور آپریشنل کمزوریوں کو نمایاں کر رہے ہیں،تیجس کا حادثہ کسی ایک پائلٹ کی غلطی نہیں بلکہ بھارت کے دفاعی صنعتی نظام اور طویل المدتی منصوبہ بندی کی ناکامی کی علامت ہے، بی بی سی کے مطابق بھارتی فضائیہ اپنی مطلوبہ صلاحیت حاصل کرنے سے ابھی دہائیوں دور ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں