تیل کی قیمتوں میں اضافہ

کراچی (بیوروچیف) عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم کی قیمتوں میں راتوں رات ہوش اڑا دینے والا اضافہ ہو گیا۔ اس کے ساتھ ہی امریکہ مین سٹاک مارکیٹ میں شیئرز کی قیمتیں گر گئیں۔ ایران اسرائیل جنگ کے پانچویں دن اچانک آئل مارکیٹ اور سٹاک مارکیٹ میں سنگین صورتحال پیدا ہو گئی۔ اس صورتحال کے مزید سنگین ہونے کا قوی امکان ہے۔خام تیل کی قیمتوں کے بڑھتے ہوئے دبا کے تحت سٹاک ڈوب رہے ہیں۔گزشتہ روز پٹرولم کی عالمی منڈی میں بینچ مارک یو ایس کروڈ کا ایک بیرل 4.3فیصد اضافے سے 74.84ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔ برینٹ کروڈ، بین الاقوامی معیار کی قیمت، 4.4فیصد اضافے سے $76.45فی بیرل ہو گئی ہے۔ خام تیل کی قیمت میں اچانک بے تحاشا اضافہ ایران اسرائیل جنگ کے پانچویں روز امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران سے”غیر مشروط ہتھیار ڈالنے” کا مطالبہ کرنے کے بعد ہوا ہے۔ ایران کے ساتھ اسرائیل کی لڑائی کا درجہ حرارت بڑھنے کے بعد یہ خوف بڑھ گیا ہے کہ ایران اور ایران کے پراکسی حوثی مل کر عرب ممالک سے پٹرولیم مصنوعات کی دنیا کو ترسیل کا سب سے بڑا روٹ آبنائے ہرمز بند کر دے گا اور ایران کے پراکسی حوثی بحیرہ احمر میں امریکہ کے بحری جہازوں کو نقصان پہنچائیں گے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز اپنے ملکیتی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر یہ بیان دیا تھا کہ “ہم ایران کے رہنما کو” کم از کم فی الحال تو ” قتل نہیں کریں گے۔ ٹرمپ نے ایران سے فوری طور پر سرنڈر کر دینے اور اپنے نیوکلئیر پروگرام کو بس بند کر دینے کا مطالبہ کیا جو انہوں نے اس سے پہلے کبھی نہیں کیا تھا۔ اس مطالبے کی بعد ایران کی طرف سے یہ واضح اشارے دیئے گئے کہ وہ آبنائے ہرمز میں تیل بردار بحری جہازوں کی آمدورفت کو روکنے کی طرف جائے گا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے گزشتہ روز اس قیاس آرائی نے بھی آئل مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافے کے رجحان کو ابھارا کہ وہ ایران کے ساتھ براہ راست جنگ مین شریک ہو کر فردو کی نیوکلئیر تنصیبات پر حملہ کر سکتے ہیں۔ ایران کی یہ زیر زمین نیوکلئیر تنصیبات اسرائیل کے حملوں میں محفوظ رہی ہیں۔ ان تنصیبات کو ایران اپنی ریڈ لائن تصور کر رہا ہے اور پہلے دھمکی دے چکا ہے کہ اگر امریکہ نے جنگ میں کود کر ان تنصیبات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو ایران آبنائے ہرمز کو بند کر سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں