ثنا کا خواب ادھورا رہ گیا، وہ خبر جس نے سب کو افسردہ کردیا

اسلام آباد (بیوروچیف) وہ عید کے بعد چھٹیاں گزارنے کے لیے گائوں آنے والی تھی مگر کیا خبر تھی کہ تابوت میں آئے گی۔درد سے لبریز یہ الفاظ ثناء یوسف کے چچا کوثر علی شاہ کے تھے، جو اپنی بھتیجی کے قتل پر غم سے نڈھال ہیں۔انہوں نے کہا کہ ثناء یوسف ہر برس اپنے والدین کے ساتھ گرمیوں کی چھٹیاں منانے چترال آتی تھی جبکہ اس دفعہ بھی انہوں نے عید کے بعد آنے کا کہا تھا۔ ثناء یوسف نے اپنی والدہ کے گھر بونی میں چھٹیاں گزارنے کا منصوبہ بنایا تھا، پھر ان کا مختلف خوبصورت مقامات میں جاکر ویڈیو کنٹینٹ بنانے کا ارادہ تھا۔ لیکن ثنا کی موت کی خبر نے ہلا کر رکھ دیا ہے، ہمیں کیا خبر تھی کہ عید سے پہلے ہی اس کے جنازے پر تمام اہل خانہ اکٹھے ہوں گے۔ثنا کا خواب ادھورا رہ گیا۔ کوثر علی شاہ نے کہا کہ ثنا یوسف بہت ملنساراور ہنس مکھ لڑکی تھی، وہ اسلام آباد میں رہنے کے باوجود اپنے علاقے کے بارے میں فکر مند رہتی تھی، اس کی خواہش تھی کہ وہ انٹرپرینیور بنے تاکہ علاقے کے لوگوں کی ان کے پاں پر کھڑا ہونے میں مدد کر سے۔ثنا کا ارادہ تھا کہ وہ گاں کی خواتین کو ڈیجیٹل میڈیا کے شعبے میں تربیت دے تاکہ ان کو بااختیار بنایا جا سکے مگر اس کا خواب ادھورا رہ گیا۔ثناء یوسف کے چچا نے کہا کہ پورے خاندان اور چترال کو فخر ہے کہ ثنا نے اپنی عزت کا خیال رکھا اور اس قاتل نوجوان کی دھمکیوں کے باوجود اس کی بات نہ مانی۔ان کا کہنا تھا کہ ثناء نے والدین کی مرضی سے سوشل میڈیا کی دنیا میں قدم رکھا تھا اور ان کے والدین نے ہمیشہ ان کو سپورٹ کیا۔کوثر علی شاہ نے بتایا کہ ثناء یوسف ایف ایس سی فرسٹ ایئر کی طالبہ تھی۔ تعلیمی قابلیت کے ساتھ وہ غیرنصابی سرگرمیوں میں تمام طلبہ سے آگے رہتی تھی۔اس کی موت نے ہر چترالی کو افسردہ کر دیا ہے، گاں میں سوگ کی فضا ہے، بچے بوڑھے اور خواتین سب ثناء یوسف کو یاد کر کے رو رہے ہیں۔ کسی کو یقین نہیں آ رہا کہ اپنی باتوں سے سب کو ہنسانے والی اپنے پیچھے سب کو رلا گئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں