جامعات پر کنٹرول کا امریکی حربہ

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ نے غیر ملکی طلبہ کے ویزا پر پابندی لگا دی ۔ محکمہ خارجہ نے غیر ملکی طلبہ کے اسٹوڈنٹ اور ایکسچینج ویزا کی کارروائی معطل کر دی ہے۔ یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے امریکی جامعات، خاص طور پر ہارورڈ یونیورسٹی پر دبائو بڑھانے کا حصہ ہے۔ انتظامیہ نے مظاہروں میں شریک کچھ غیر ملکی طلبہ کی ملک بدری اور یونیورسٹیوں میں داخلے پر سخت نگرانی کا اعلان بھی کیا ہے۔سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو کی طرف سیگذشتہ روز دستخط کردہ ایک ہدایت نامہ میں سفارت خانوں اور قونصل خانوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ مزید کسی بھی اسٹوڈنٹ یا ایکسچینج ویزا کے لیے ملاقات کی گنجائش نہ رکھی جائے، جب تک کہ مزید ہدایات نہ دی جائیں۔حکومت نے بین الاقوامی طلبہ کے سوشل میڈیا پروفائلز کی جانچ پڑتال میں سختی کرنے کا منصوبہ بھی بنایا ہے۔چین نے امریکی اقدام کی مذمت کرتے ہوئے طلبہ کے حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ جاپان، ہانگ کانگ اور تائیوان نے متاثرہ طلبہ کو داخلے کی پیشکش کی ہے۔ہارورڈ میں طلبہ نے ویزا معطلی اور مالی امداد کی منسوخی پر احتجاج کیا۔ ٹرمپ نے یونیورسٹی پر لبرل نظریات اور یہود دشمنی پھیلانے کا الزام لگایا ہے۔ حکومت نے ہارورڈ کے 100ملین ڈالر سے زائد کے معاہدے منسوخ کر دیے ہیں۔ ہارورڈ نے ان اقدامات کے خلاف عدالت سے رجوع کر لیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں