جرمنی اور ترکیہ سے افغان مہاجرین کی ملک بدری تیز

کابل (مانیٹرنگ ڈیسک) جرمنی اور ترکیہ میں افغان مہاجرین کی مبینہ پرتشدد اور مجرمانہ سرگرمیوں کے باعث ملک بدری کے اقدامات میں تیزی آ گئی ہے۔ مختلف غیر ملکی اور افغان ذرائع ابلاغ کے مطابق متعدد ممالک افغان مہاجرین کی سرگرمیوں پر شدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔افغان میڈیا رپورٹس میں دعوی کیا گیا ہے کہ افغان طالبان کے اقتدار کے بعد افغانستان انتہا پسندی اور دہشت گردی کا مرکز بنتا جا رہا ہے، جس کے اثرات بیرونِ ملک مقیم افغان مہاجرین کے رویوں میں بھی نظر آ رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق افغان مہاجرین کئی ممالک میں ہنگامہ آرائی، منشیات اسمگلنگ اور دیگر پرتشدد جرائم میں ملوث پائے گئے ہیں، جس کے شواہد سامنے آنے کے بعد میزبان ممالک نے سخت اقدامات شروع کر دیے ہیں۔افغان جریدے کے مطابق جرمنی میں سخت امیگریشن پالیسی نافذ کی جا رہی ہے اور حال ہی میں منشیات اسمگلنگ اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ایک اور افغان پناہ گزین کو ملک بدر کر دیا گیا ہے۔ جرمن میڈیا کے مطابق 2025 کے دوران اب تک 83 افغان پناہ گزینوں کو سنگین جرائم میں ملوث ہونے پر جرمنی سے بے دخل کیا جا چکا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں