94

جعلی ادویات مافیا کے گرد گھیرا تنگ (اداریہ)

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبہ کو جعلی’ غیر معیاری ادویات سے پاک کرنے کے پروگرام کی منظوری دے دی، ادویات فروخت کرنے والی دکانوں’ ڈرگ سٹورز کی جدید ٹیکنالوجی اور جیو ٹیگینگ کے ذریعے نگرانی کے اقدامات پر سخت عمل درآمد کی ہدایت کی، جعلی’ غیر معیاری’ ناقص ادویات کی فروخت میں ملوث عناصر کو جرمانے قید اور کاروبار سربمہر کرنے کی سزائیں دینے کا فیصلہ، وزیراعلیٰ نے کہا دوائی جعلی نکلی تو محکمہ صحت کا متعلقہ افسر اور علاج ٹھیک نہ ہوا تو ہسپتال کی ایڈمنسٹریشن ذمہ دار ہو گی’ جعلی ادویات مافیا کے گرد گھیرا تنگ کیا جائے جعلی ادویات تیار کرنے والی فیکٹریاں’ گودام اور سٹور سیل کئے جائیں، محکمہ صحت کے ارباب اختیار کو اپنی ڈیوٹی دیانتداری سے ادا کرنا ہو گی،، صوبہ میں جعلی ادویات تیار کرنے’ سٹور کرنے اور فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کیلئے پروگرام کی منظوری خوش آئند ہے، عوام کی زندگیوں سے کھیلنے والوں سے کوئی رعایت نہیں ہونی چاہیے محکمہ صحت کے افسران اور ہسپتالوں کی انتظامیہ کی ملی بھگت سے جعلی ادویات کی سپلائی کرنے والوں کو کڑی سزائیں دینا وقت کا تقاضا ہے وزیراعلیٰ نے غیر معیاری اور جعلی ادویات سے پنجاب کو پاک کرنے کے پروگرام کی منطوری دی ہے جس کو سراہا جا رہا ہے محکمہ صحت کے متعلقہ افسران اور ہسپتالوں کی انتظامیہ کو اس حوالے سے خبردار کیا گیا ہے کہ اگر وہ جعلی ادویات مافیا کے آلہ کار بنے تو ان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ محکمہ صحت کے افسران اور عملہ کے ساتھ ساتھ سرکاری ہسپتالوں کی انتظامیہ ایسے لوگوں سے ہرگز رابطہ میں نہ رہے جنہوں نے انسانی زندگیوں سے کھیلنا معمول بنا رکھا ہے اور جعلی ادویات مارکیٹوں اور سرکاری ونجی ہسپتالوں میں فراہم کر کے اپنی تجوریاں بھر رہے ہیں ہمیں بطور پاکستانی اپنے ضمیر کو جگانا پڑے گا کتنے افسوس کی بات ہے کہ دنیاوی فائدے کیلئے ہمارے معاشرہ میں اپنے ہم وطنوں کی جان لینے سے بھی دریغ نہیں کیا جا رہا سرکاری ہسپتالوں میں بھاری تنخواہیں اور مراعات لینے والے ڈاکٹرز’ نرسز’ سٹاف اور دیگر عملہ اپنی ذمہ داریوں کو ایمانداری سے نبھانے میں مخلص نہیں ساہیوال میں 9بچوں کے جاں بحق ہونے کا واقعہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے اس کا اعلیٰ سطح پر نوٹس لینا ضروری ہے، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کو چاہیے کہ وہ ہیلتھ سیکٹر کی براہ راست نگرانی کریں تاکہ سرکاری ہسپتالوں کی انتظامیہ اور طبی عملہ کی من مانیوں کے آگے بند باندھا جا سکے محکمہ صحت کو ہر لحاظ سے مثالی بنانا پنجاب حکومت کا فرض ہے ہسپتالوں میں صفائی ستھرائی کے ساتھ ساتھ ڈاکٹرز اور طبی عملہ کا وقت سے پہلے اپنی ڈیوٹی پر پہنچنا ناگزیر ہے وزیراعلیٰ کے حکم پر ہسپتالوں میں بائیومیٹرک حاضری کا فیصلہ درست ہے اس اقدام سے ڈاکٹرز’ نرسز اور طبی علاج معالجہ کیلئے آنیوالے شہریوں کو ضروری سہولیات کے حصول میں آسانی ہو گی اور ان کا وقت ضائع ہونے سے بچ جائے گا وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کو سابق نگران وزیراعلیٰ محسن نقوی کی طرح پنجاب بھر کے سرکاری ہسپتالوں کے وقتاً فوقتاً دورے کرتے رہنا چاہیے تاکہ ہسپتالوں کے ڈاکٹرز اور دیگر سٹاف کو کسی کوتاہی اور غفلت سے باز رکھا جا سکے مریضوں کے لواحقین کیلئے موسم کے لحاظ سے سہولیات کی فراہمی کا بھی خیال رکھا جانا چاہیے پارکنگ کے نام پر عوام سے لوٹ مار کا بھی نوٹس لینا چاہیے وزیراعلیٰ نے صوبہ کو جعلی ادویات سے پاک کرنے کے پروگرام کی منظوری تو دے دی ہے جو اچھی بات مگر ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ اس پروگرام کو ہر لحاظ سے کامیاب اور مثالی بنانے کیلئے دیانتدار ایمان دار اور مخلص افسران اور ماتحتین کو ذمہ داریاں سونپی جائیں جو جعلی ادویات مافیا کے آگے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہو جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں