جماعت اسلامی ریلوے ملازمین اور ریلوے سے منسلک کروڑوں عوام کی آواز بنے گی،حافظ نعیم الرحمان

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کی پریم یونین کے چیف آرگنائزر خالد محمود چوہدری اور سرپرست فیصل آباد پریم یونین میاں طاہر ایوب سے ملاقات۔ اس موقع پرصوبائی امیر جاوید قصوری، ضلعی امیر محبوب الزماں بٹ، میاں شاہد ایوب، میاں زاہد ایوب،رائے ندیم الرحمن، محمد ناصر بھی موجود تھے۔ خالد محمود چوہدری اور میاں طاہر ایوب نے حافظ نعیم الرحمان کو پاکستان بھر کے مزدوروں خصوصاریلوے کی موجودہ صورتحال، ریلوے ملازمین کے مسائل اور ریلوے سے منسلک سالانہ15کروڑ پاکستانیوں کی مشکلات سے آگاہ کیا – حافظ نعیم الرحمن نے پریم یونین کی رہنمائی کرتے ہوئے کہا کہ پریم یونین ریلوے اور ریلوے ملازمین کے مسائل سمیت ریلوے سے منسلک 15 کروڑ پاکستانیوں کی آواز بن کر اپنا لائحہ عمل بنا کر میدان عمل میں آئے۔ جماعت اسلامی ان کی بھر پور سرپرستی کرے گی اور میں خود شانہ بشانہ پریم یونین کی اس جدو جہد میں ساتھ ہوں گا۔پاکستان کے 7 کروڑ سے زائد سرکاری اور پرائیوٹ مزدوروں کے حقوق کی جدو جہد کیلئے عنقریب ٹرین اور روڈ مارچز کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا ایک طرف حکومت میٹرو بس، اورنج ٹرین، الیکٹرک بسوں اور موٹر وے کو سالانہ کھربوں روپے کے وسائل اور سبسڈی دے کر پاکستانی شہریوں کو سستی اور معیاری سفری سہولت فراہم کرنے کا علان کر رہی ہے اور اربوں روپیہ تشہیری مہم پر خرچ کر رہی ہے دوسری طرف 15 کروڑ پاکستانیوں کی سفری ضرورت پاکستان ریلوے سے سوتیلی ماں کا سلوک کر رہی ہے۔ پاکستان کا سب سے بڑا رفاہی،فلاحی اور عوام کو سہولت فراہم کرنے والا ادارہ ریلوے حکومت کی عدم توجہ کی وجہ سے تنزلی کا شکار ہے جس کی ذمہ دار موجودہ اور سابقہ حکومتیں ہیں۔ موجودہ بجٹ میں BISP کی مد میں 7کھرب سے زائد کا بجٹ مقرر کیا گیا ہے جو کہ کرپشن کی نذر ہو رہا ہے اور NHA کو ڈھائی کھرب کا بجٹ دیا گیا ہے جبکہ پاکستان کے سب سے بڑے رفارہی، فلاحی معاشی ادارے کے بجٹ میں 20 ارب کی کٹوتی کرکے صرف 27 ارب رکھے گئے ہیں۔ پریم یونین کے راہنماں نے فیصل آباد سرگو دھا ڈویژن بشمول حافظ آباد، سانگلاہل کے دو کروڑ سے زائد شہریوں کی آواز بنتے ہوئے وزیر اعظم اور وزیر ریلوے سے مطالبہ کیا کہ ان دو کروڑ شہریوں کا کراچی سے 3 ستمبرسے رابطہ منقطع ہے۔ شور کوٹ۔ عبدالحکیم سیکشن پر بوجہ سیلاب متاثرہ ریلوے ٹریک کی جلد از جلد مرمت کرکے ریلوے آپریشن بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے عرصہ دراز سے اپنی معیاد مکمل کر کے چلنے والی 50% کوچز کو تبدیل کر کے نئی کوچز تیار کرنے اور ریلوے کے 150 سال پرانے ریلوے ٹریک کو تبدیل کر کے نئے ٹریک بنانے کے لیے وزیر اعظم سے ہنگامی بنیادوں پر فیصلہ کرنے اور وسائل فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے ریلوے کے تین سال سے زائد ریٹائر ملازمین اور بیواں کے واجبات اور 7 سال سے زائد عرصہ سے ٹی اے کے واجبات کی عدم ادائیگی پر انتہائی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے قومی اسمبلی کے فلور پر اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان واجبات کی ادائیگی کے لئیے میں فنانس ڈویژن سے فنڈزلینے میں ناکام ہو گیا ہوں۔انہوں نے کہا کہ ایک وزیر اپنی اسمبلی کے فلور پر اپنی بے بسی کا اظہار کر رہا ہے اور حکومت معاشی ترقی کے شادیانے بجا رہی ہے جو باعث افسوس ہے۔ انہوں نے ان واجبات کی ادائیگی اور دیگر ضروری اقدامات کے لیئے وزیرا عظم شہباز شریف سے فوری طور پر ریلوے کو 25 ارب روپیہ دینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے ریلوے کی ٹرینوں کی آٹ سورس کو ختم کرنے کے اعلان پر وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے پریم یونین کے صدر شیخ محمد انور کی قیادت میں پریم یونین کی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اپنی بھر پور سر پرستی اور تعاون کا یقین دلایا۔انہوں نے پاکستان بھر کے مزدوروں سے کہا کہ اپنے اور اپنے بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لئے جماعت اسلامی کے پلیٹ فارم پر اپنے آپ کو منظم متحد اور متحرک کر کے جب تک ایماندار،دیانت دار اور اہل افراد کو منتخب کر کے اسمبلیوں میں نہیں بھیجیں گے اس وقت تک آپ کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں