جماعت اسلامی کسانوں سے اظہار یکجہتی کیلئے7اپریل کو لاہور میں آل پارٹیز کانفرنس کریگی

جڑانوالہ(نامہ نگار) جماعت اسلامی کے امیر وسطی صوبہ پنجاب جاوید قصوری نے جڑانوالہ کینال روڈ پر مسجد خضری میں نائب امیر صوبہ پنجاب رانا عبدالوحید،امیر جماعت اسلامی جڑانو ا لہ ڈاکٹر سعید احمد،سابق صدر بار رانا عتیق الرحمن ایڈووکیٹ،صدر سیاسی کمیٹی پی پی 101 رانا سلطان محمود خاں،صدر کسان ونگ رانا طاہر منج،زاہد محمود،ملک ابوبکر و دیگران کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی کسانوں سے اظہار یکجیتی کیلئے 7 اپریل کو لاہور میں آل پارٹیز کانفرنس کرے گی اور 8 اپریل کو پنجاب اسمبلی کے باہر احتجاجی دھرنا دے گی جس میں تمام سیاسی جماعتوں اور کسانوں تنظیموں کو مدعو کیا جائے گا موجودہ حکومت اور انکے پیرو کار کسان دشمن پالیسیوں پر عمل پیرا ہے فارم 47 پر بننے والی موجودہ حکومت کی کوئی آئینی اور قانونی حیثیت نہ ہے حکومت امن و امان کو برقرار رکھنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے پاکستان کی معیشت آئی ایم ایف کے نرغے میں ہے آئی ایم ایف کے وفد اداروں کے سربراہان سے ملاقاتیں کر رہے ہیں اگر سارے کام ائی ایم ایف نے کرنے ہیں تو موجودہ حکمرانوں کا اسلام آباد میں بیٹھنے کا کوئی جواز نہ ہے گزشتہ سال نگران حکومت نے کسانوں سے گندم خریدنے کی بجائے بیرون ملک سے گندم خریدی اور 1 ارب روپے کا نقصان پہنچایا گیا جس پر انکوائری کمیشن قائم کیا گیا مگر بدقسمتی سے آج تک انکوائری کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر نہ آ سکی ہے جاوید قصوری نے مزید کہا کہ ملک پاکستان کی 47 فیصد ابادی زراعت کے شعبہ سے وابستہ ہیے مگر انتہائی شرم کی بات ہے کہ پاکستان میں کسانوں کا معاشی قتل کیا جا رہا ہے کسانوں کو چاول مکئی گندم گنے کی پوری قیمت نہ مل رہی ہے پنجاب حکومت نے کسانوں سے گندم نہ خریدنے کا فیصلہ کرکے کسان دشمن پالیسیوں کو عیاں کر دیا ہے حکومت کسانوں کو سستے زرعی آلات کھادوں سپرے اور بجلی کی قیمتوں میں سبسڈی دے مگر موجودہ حکومت کیساتھ بیٹھے مافیا ڈیہاڑیاں لگا رہا ہے ملکی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا جا رہا ہے وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف کے تمام تر اقدامات محض دکھاوے کے سوا کچھ نہیں ہیں وزیر اعلی پنجاب نے کسانوں کو دھوکہ دیا ہے اگر حکومت کسانوں کیساتھ مخلص ہے تو زرعی آلات کھادوں سپرے اور بجلی پر سبسڈی دے گندم کی قمیت کا تعین کرکے اسکی خریداری شروع کرے جاوید قصوری کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ حکمران اور انکی پالیساں پاکستان کیلئے خطرہ بن چکے ہیں جاوید قصوری نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کا نام لیئے بغیر کہا کہ کسی بھی سیاسی جماعت کے لیڈر اور کارکنوں کو قید کرکے سیاسی انتقام کا نشانہ نہیں بنانا چاہیے سیاسی ورکرز کو خوف زدہ کرنا مناسب نہ ہے جمہوری معاشرے میں پرامن احتجاج تمام سیاسی جماعتوں کا بنیادی حق ہے جماعت اسلامی اپنے پلٹ فارم سے سیاسی جد وجہد جاری رکھے گئی انہوں نے مزید کہا کہ ملک بھر سمیت کے پی کے اور بلوچستان میں دہشت گردی کی لہر میں اضافہ انتہائی افسوناک امر ہے گولی اور طاقت کی بجائے مذاکرات کے ذریعے حل نکالا جائے طاقت اور گولی کے ذریعے مسائل حل نہیں ہوتے بلوچ عوام کے تحفظات دور کئے جائیں اور انکو حقوق دئیے جائیں جاوید قصوری نے صحافیوں کیساتھ بھی اظہار یکجیتی کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکمرانوں نے کالے قانون کے ذریعے آزادی صحافت کا گلہ گھونٹا ہے حکمران اپنے چہروں پر لگے دھبے نہیں دیکھنا چاہتے اس لئے اپیکا ایکٹ کا قانون نافذ کیا گیا ہے جماعت اسلامی صحافی برادری کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور اس کالے قانون کی بھرپور انداز میں مذمت کرتی ہے موجودہ حکمرانوں کو چاہیے کہ اپیکا ایکٹ کے حوالہ سے ملک بھر کی صحافی برادری کے تحفظات کو فی الفور دور کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں