124

جماعت اسلامی کے بزرگ رکن فیض کریم خان کی رحلت …

تحریر… ساجد علی
محترم فیض کریم خان کی اچانک موت کا سن کر دل دکھی،پریشان او ر غم زدہ ہو گیا،ان کے بیٹے جواد کریم نے مجھے فون پر بتایا کہ ابو جان کی وفات موٹر سائیکل حادثے کی بنا پر ہوئی ہے میں نے اناﷲ وانا الیہ راجعون پڑھا ان سے اظہار افسوس کیا دعائے مغفرت اور صبر جمیل کی دعا کی انسان اس کے سوا کر بھی کیا سکتا ہے ایک عظیم اور شفیق باپ کی موت نے جواد کریم سمیت ان کے عزیز و اقارب،بیٹوں اور بھائیوں کو غم زدہ کردیا۔فیض کریم خان انتہائی ملنسار،مہمان نواز،سادہ مزج،محبت اور شفقت کرنے والے انسان تھے دھیما لہجہ،پست آوازاور علمی گفتگو کرتے تھے ان کی باتوں میں سچائی،شائستگی اور اپنائیت کا احساس ہوتا تھا ان سے ہر ملنے والا ان سے اپنائیت محسوس کر تا تھا اور چاہتا تھا کہ گھنٹوں ان سے گفتگو کا سلسلہ جاری رہے فیض کریم خان کمال کے انسان اور مہمان نوا ز تھے جو بھی تحریکی ساتھی ان سے ملنے آتا آگے بڑھ کر اس کا خندہ پیشانی سے اس کا استقبال کرتے اس کی بات بغور سنتے ا للہ تعالی ان کی قبر پر اپنی کروڑوں رحمتوں کا نزول فرمائے وہ اچانک حادثاتی موت کے سبب اللہ کے ہاں پہنچ چکے انکی اچانک موت نے ان کے دوست احباب کو دلی صدمہ دیا ہے۔

فیض کریم خان اعلی تعلیم یافتہ اور باعمل انسان تھے اعلی تعلیم کے ساتھ ان کو دینی علم پر بھی عبور حاصل تھا وہ کئی سال یورپ رہے یہاں واپس آئے تو ایک ذاتی پرائیویٹ سکول کی بنیاد رکھی جماعت اسلامی کے ساتھ وابستہ ہوئے اور اس کے بنیادی رکن بنے بانی جماعت سید ابو اعلی مودودی کی فکر، دعوت اور لٹریچر سے بے پناہ متاثر تھے جماعت اسلامی کی دعوت لوگوں تک پہنچاتے خاص کر درس قرآن کا اہتمام کرتے تھے دوست احباب کو اس میں شرکت کی دعوت دیتے اور ان کا بے پناہ اکرام کرتے تھے فیض کریم خان آج کل جماعت اسلامی کی سیاسی لحاظ سے موجودہ پالیسیوں اور خاص کر الیکشن میں ناکامی پر
زمہ داران سے نالاں رہتے تھے وہ دعوتی کام کرنے کو ترجیح دیتے تھے وہ سمجھتے تھے کہ جماعت اسلامی الیکشن اور سیاست کے کھیل سے باہر آجائے خدمت اور دعوت کے کام کو اپنی ترجیح بنالے تو پھر کچھ سالوں بعد عوا م کی زہن سازی کے بعد الیکشن میں کامیابی کی توقع کی جاسکتی ہے موجودہ سیاست کا کھیل جماعت اسلامی کے لیے محض پیسے کا ضیاع ہے اور کامیابی دور دور تک ہوتی نظر نہیں آتی۔
فیض کریم خان نے چند سال قبل پرائیویٹ سکول کی بنیاد رکھی تو شاندار انداز میں کام کیا تعلیم یافتہ سٹاف رکھا ان کو اچھی تنخواہیں دی سکول کا معیار تعلیم بہترین رکھا اور شاندار رزلٹ کے ساتھ خوب محنت کرکے ادارے کے وقار میں اضافہ کیا انکی اہلیہ کے انتقال کے بعد سکول کا نظام ڈسٹرب ہوا وہ بھی پریشان رہنے لگے توجہ نہ دے سکے تو سکول جماعت اسلامی کے رہنما ڈاکٹر بشیر احمد صدیقی صاحب کو بیچ دیا۔
مجھے کئی بار فیض کریم خان سے ملاقاتیں کرنے کا موقع ملا وہ میرے دفتر بھی آجاتے اور میں ان کے گھر پربھی چلا جاتا اور گھنٹوں مختلف موضوعات پر گفتگو ہوتی وہ ہر بار یوں محبت سے ملتے کہ پرانے تعلق کا احساس ہوتا اللہ کریم ان کی محبت، شفقت، مہمان نوازی،صلح رحمی اور سب سے بڑھ کر دین سے محبت کو قبول فرمائے وہ بلاشبہ عظیم انسان تھے ان جیسے مخلص انسانوں کا آج کے دور میں ملنا مشکل ہوتا جا رہا ہے ان کی کمی انکی وفات کے بعد انکی اولاد کو تو ہوگی مگر ان کے دوست احباب ایک مخلص اور محب کرنے والے دوست سے محروم ہوگئے میرے دفتر جب آتے تو کافی دیر بیٹھتے اور خوب گپ شپ لگاتے جاتے ہوئے کہتے کہ میں نے آپ کا بہت وقت لے لیا ہے۔
صحت کے حوالے سے کمزور تھے انہیں دل کی تکلیف تھی مجھے بھی ان کی صحت کی فکر رہتی تھی اور وہ بھی بار ہا مجھے کہتے کہ میرے بیٹے جواد کریم کی شادی ہوجائے تو میں زہنی طور پر بے فکر اور مطمئن ہو جاں گا اور اس کے بعد ہارٹ سر جری کرواں گا وہ جواد کریم کے ساتھ بہت پیار کرتے تھے وہ کہتے تھے کہ جواد کریم اس لحاظ سے بہت خوش نصیب ہے کہ اس نے اپنی والدہ محترمہ کی بہت خدمت کی ہے والدہ کی اور میری دعائیں ہمیشہ اس کے ساتھ رہے گی جواد کریم نے مجھے بتایا کہ ابو جان کو ہم ان کی صحت کو سامنے رکھتے ہوئے انہیں موٹر سائیکل چلانے سے منع کرتے تے مگر وہ بتائے بغیر چلے جاتے افسوس کی بات یہی ہے کہ انکی موت کا سبب بھی موٹر سائیکل ہی بنا موت ایک اٹل حقیقت ہے ہم سب نے چلے جانا ہے ہر شخص اپنی باری کا منتظر ہ اللہ تعالی فیض کریم خان کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے انکی لغزشوں کو درگزر فرمائے انکے عزیز و اقارب ان کے بیٹوں تحریکی ساتھیوں کو صبر جمیل عطا فرمائے، (آمین)۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں