119

جنوبی ایشیا میں امن کیلئے تنازعہ کشمیر کا حل ناگزیر (اداریہ)

نائب وزیراعظم ووزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ کشمیری عوام کو کئی دہائیوں سے بھارتی مظالم کا سامنا ہے مسئلہ کشمیر کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل چاہتے ہیں استنبول میں اسلامی تعاون تنظیم OIC میں مقبوضہ جموں وکشمیر رابطہ گروپ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کو طاقت کے زور پر زیادہ دیر تک غلام نہیں رکھا جا سکتا مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں اور کشمیر اور فلسطین کے عوام بنیادی حقوق کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں پاکستان نے ہمیشہ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی حمایت کی ہے مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں اور پاکستان ان قرار دادوں کے مطابق اس مسئلہ کا حل چاہتا ہے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا بھارت نے مقبوضہ وادی میں آٹھ لاکھ سے زائد فوج تعینات کر رکھی ہے نہتے کشمیریوں کو بلاجواز ہراساں کرنا معمول بنا رکھا ہے کشمیری عوام کا بیرونی دنیا سے رابطہ منقطع کر کے ان کو تنہا کر دیا ہے جو قابل مذمت ہے اور انسانی حقوق کی بدترین پامالی ہے نائب وزیراعظم نے کہا بھارت نے پہلگام واقعے پر بغیر تحقیق کئے پاکستان پر الزام لگایا جبکہ پاکستان نے بھارت کو پہلگام واقعے کی شفاف تحقیقات کی پیشکش کی مگر بھارت نے پہلگام واقعے کی تحقیقات کے بجائے جارحیت کا مظاہرہ کیا جس کے نتیجہ میں خواتین اور بچے شہید ہوئے بھارتی جارحیت کے جواب میں پاکستان نے دفاع کا حق استعمال کیا اور بھارت کی صرف فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کیلئے مسئلہ کشمیر کا حل ناگزیر ہے یہ بات اقوام متحدہ اور عالمی قوتیں سب جانتی ہیں بھارت کے غیر ذمہ دارانہ اقدامات سے خطے کے امن کو خطرات لاحق ہیں،، پاکستان کے نائب وزیراعظم ووزیر خارجہ اسحاق ڈار نے استنبول میں اسلامی تعاون تنظیم او آئی میں مقبوضہ جموں وکشمیر رابطہ گروپ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو یاد دہانی کرائی ہے کہ جنوبی ایشیا میں مسئلہ کشمیر کا حل نہ ہونا خطے میں کشیدگی کا باعث ہے یہ تنازعہ بھارت اور پاکستان کے درمیان تلخیاں بڑھا رہا ہے پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بار ہا دفعہ اس مسئلہ کو اٹھایا ہے اور اقوام متحدہ پر زور دیا ہے کہ اس تنازعہ کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق نمٹایا جائے تاکہ کئی دہائیوں سے بھارتی مظالم کا نشانہ بننے والے کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہو سکے مگر مکار بھارت اپنے غیر ملکی آقائوں کی حمایت سے اس مسئلہ کو لٹکاتا چلا آ رہا ہے جو قابل مذمت ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ بھارت اپنی ہٹ دھرمی سے باز آ جائے اور کشمیریوں استصواب رائے کا حق دے اس حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ علاوہ ازیں صدر ٹرمپ نے بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کا باعث بننے والے مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے بھی کردار ادا کرنے کا کہا ہے جس کا پاکستان خیرمقدم کرتا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ اس مسئلہ کے حل کیلئے کردار ادا کریں اور کئی دہائیوں سے بھارتی مظالم سہنے والے کشمیریوں کو آزادی مل سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں