جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں سے نظام صحت شدید متاثر

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک)جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں کے باعث ہسپتالوں، طبی مراکز اور طبی عملے کو شدید نقصان پہنچنے سے صحت کا نظام شدید بحران کا شکار ہو گیا ہے جبکہ ماہرین نے کہا ہے کہ اِن حملوں نے بڑے پیمانے پر نقل مکانی کو بھی جنم دیا ہے۔لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق حالیہ ایک ماہ کے دوران اسرائیلی کارروا ئیوں میں 53طبی کارکن جاں بحق، 87ایمبولینسیں اور طبی مراکز تباہ جبکہ 5 ہسپتال بند ہونے پر مجبور ہوئے ہیں۔ امدادی تنظیم ڈاکٹرز وِد آئوہٹ بارڈرز کی نمائندہ لونا حماد نے کہا کہ حملوں اور جبری انخلا کے احکامات نے مریضوں کی علاج تک رسائی محدود کر دی ہے۔رپورٹ کے مطابق 2 مارچ 2026 کو حزب اللہ کے حملے کے بعد اسرائیل نے لبنان میں فوجی کارروائیاں تیز کر دی تھیں، اسرائیلی حملوں اور انخلا کے احکامات کے نتیجے میں تقریباً 1.2 ملین افراد بے گھر ہو چکے ہیں، حزب اللہ کی زیادہ حمایت زیادہ والے علاقے جنوبی لبنان اور بیروت خاص طور پر نشانہ بنے۔عالمی ادار صحت کے لبنان میں نمائندے ڈاکٹر عبدالنصیر ابوبکر کے مطابق متعدد طبی مراکز براہِ راست حملوں کی زد میں آئے جبکہ طبی عملہ بھی نقل مکانی پر مجبور ہوا جس سے صحت کے نظام کی صلاحیت مزید کمزور ہو گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں