جون تک زر مبادلہ کے ذخائر کا 14ارب ڈالر ہدف مقرر

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے گورنر جمیل احمد نے واشنگٹن میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے موسم بہار کے اجلاس کے موقع پر اعلی سطح کی ملاقاتوں کے دوران پاکستان کے میکرو اکنامک استحکام اور نقطہ نظر میں بہتری کا اعادہ کیا۔ مرکزی بینک کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق اسٹیٹ بینک کے سربراہ نے عالمی مالیاتی اور سرمایہ کاری اداروں بشمول جے پی مورگن، اسٹینڈرڈ چارٹرڈ، ڈوئچے، جیفریز اور اہم کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں کے سینئر ایگزیکٹوز سے ملاقاتیں کیں، اور انہیں پاکستان کی جانب سے اپنی معیشت کے استحکام کے حوالے سے ہونے والی ٹھوس پیش رفت سے آگاہ کیا۔انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ایک دانشمندانہ مانیٹری پالیسی، مسلسل مالی استحکام کی کوششوں کے ساتھ مل کر ملک میں میکرو اکنامک استحکام کا باعث بنی ہے۔جمیل احمد نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ گزشتہ 2سال کے دوران ہیڈ لائن افراط زر میں تیزی سے کمی آئی ہے، اور مارچ میں یہ کئی دہائیوں کی کم ترین سطح 0.7فیصد تک پہنچ گئی ہے۔مزید برآں بنیادی افراط زر بھی 22فیصد سے کم ہو کر سنگل ڈیجٹ پر آ گیا، اور توقع ہے کہ آنے والے مہینوں میں اس میں مزید کمی آئے گی، ہیڈ لائن افراط زر 5سے 7فیصد کے ہدف کی حد میں مستحکم ہونے کی توقع ہے۔بیرونی کھاتوں کے حوالے سے گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے بفرز میں نمایاں معیار ی اور مقداری بہتری آئی ہے، فروری 2023 میں اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں تین گنا اضافہ ہوا ہے، جب کہ اس کے فارورڈ واجبات میں بھی نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ریزرو کی تعمیر کے پچھلے واقعات کے برعکس ، بیرونی بفرز میں جاری اضافہ بیرونی قرضوں کے مزید جمع ہونے کی وجہ سے نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سرکاری شعبے کے بیرونی قرضوں میں جون 2022کے بعد سے مطلق طور پر اور جی ڈی پی کے فیصد کے طور پر کمی آئی ہے۔گورنر اسٹیٹ بینک نے اس بات پر زور دیا کہ یہ بہتری اسٹیٹ بینک کی بیرونی جھٹکوں بشمول تجارت سے متعلق جاری عالمی غیر یقینی صورتحال کے خلاف معیشت کی لچک پیدا کرنے پر پالیسی کی عکاسی کرتی ہے۔انہوں نے وضاحت کی کہ اسٹیٹ بینک نے بیرونی کرنٹ اکائونٹ میں سرپلس کے درمیان فاریکس خریداری کے ذریعے یہ بفرز بنائے ہیں، اسٹیٹ بینک جون 2025تک زرمبادلہ کے ذخائر کو 14ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف رکھتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں