جڑانوالہ،فیکٹریوں کارخانوں میں لیبر قوانین پر عملدرآمد خواب بن گیا

جڑانوالہ(بیورو چیف)جڑانوالہ فیکٹریوں کارخانوں میں”لیبر ایکٹ قوانین”پر عملدرآمد ایک سہانا خواب بن گیا،بھاری بھر تنخواہیں اور مراعات لینے والے افسران اور “لیبر انسپکٹرز” بھی مبینہ طور پر فیکڑیز مالکان کے آلہ کار بن گئے، مزدوروں ورکروں کے حقوق کے نام پر بننے والے اداروں کے افسران دفاتر میں بیٹھ کر اکا دکا وزٹ کرکے تصویری نمائش کرکے سب اچھا کی رپورٹ پیش کرنے لگے، مزدوروں ورکروں کا مالی استحصال کرنیوالے فیکٹریوں کارخانوں کے مالکان اور لیبر ڈیپارٹمنٹ کے نااہل افسران کیخلا ف کارروائی کا مطالبہ،تفصیلات کے مطابق تمام تر دعووں کے باوجود مزدوروں ورکروں کو انکے جائز حقوق ملنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے فیکڑیز کارخانوں میں انتہائی کٹھن مشقت کرنیوالے مزدروں ورکروں کا سالہا سال سے مالی استحصال جاری ہے فیکڑیز کارخانوں کے مالکان مبینہ طور پر لیبر ڈیپارٹمنٹ کے افسران کے مبینہ گٹھ جوڑ کی بنا پر لیبر ایکٹ قوانین کی دھجیاں بکھیر رہے ہیں فیکٹریوں کارخانوں میں کام کرنیو ا لے مزدوروں ورکروں کی حفاظت اقدامات ناکافی دکھائی دیتے ہیں ایمرجنسی کی صورت میں ہنگامی اقدامات صرف کاغذی کارروائیوں تک محدود ہیں کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے فیکٹریوں کارخانوں میں مناسب اقدامات نہ کرنا مجرمانہ فعل کے زمرے میں آتا ہے حالیہ دنوں میں فیصل آباد کے علاقہ ملک پور میں پیش آنیوالے سانحہ میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیائع نے بھی خواب غفلت میں سوئے ہوئے افسران کے ضمیر کو بھی نہیں جھنجھوڑا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں