جڑانوالہ پولیس تاجر کے قتل میںملوث ڈاکوؤں کو گرفتار نہ کرسکی

جڑانوالہ(نامہ نگار) جڑانوالہ پولیس تھانہ صدر تمام تر بلند و بانگ دعوئوں کے باوجود تاجر کے بہیمانہ قتل میں ملوث ڈاکوئوں کو تاحال گرفتار نہ کر پائی،عوامی سماجی حلقوں کا حکام بالا سے نوٹس لینے کا مطالبہ،تفصیلات کے مطابق 3دن قبل تھانہ صدر کی حدود میں ڈاکوئوں نے دن دیہاڑے لوٹ مار کرتے ہوئے سابق یو۔سی چیئرمین کے بھائی مقامی تاجر سخاوت ولد شیر محمد کو گولیاں مار کر قتل کر دیا تھا ڈکیتی کے دوران تاجر کے قتل پر ورثاء و اہل دیہہ نے لاش کو سڑک پر رکھ کر پولیس کی مبینہ غفلت و کوتاہی پر شدید احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ قتل میں ملوث ڈاکوئوں کو گرفتار کیا جائے جس پر پولیس نے ورثا اور مظاہرین کو یقین داہانی کروائی تھی کہ قتل میں ملوث ڈاکوئوں کو جلد از جلد گرفتار کر لیا جائے گا’ پولیس تھانہ صدر نے مقتول کے بھائی کی مدعیت میں قتل اور ڈکیتی کی دفعات کے تحت مقدمہ کیا مگر پولیس تاحال قتل میں ملوث ڈاکوئوں کو گرفتار نہ کر پائی ہے جس پر اہل دیہہ میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ عوامی سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ پولیس تھانہ صدر ڈنگ ٹپائو پالیسی پر عمل پیرا ہے آئے روز ہونیوالی ڈکیتیوں کے دوران بے گناہ شہریوں کا قتل انتہائی افسوناک امر ہے قاتلوں کی عدم گرفتاری نے پولیس تھانہ کی کارکردگی پر سوالات کھڑے کر دئیے ہیں عوامی سماجی حلقوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب، آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور، آر پی او،سی پی او فیصل آباد سے مطالبہ کیا ہے کہ تاجر کے قتل میں ملوث ڈاکوئوں کو فی الفور گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دلوائی جائے اور پولیس تھانہ صدر کی لاپرواہی و کوتاہی پر سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں