249

حافظ نعیم الرحمن سے وابستہ توقعات ………

تحریر…… ساجد علی
بانی جماعت سید ابو اعلی مودودی کی تحریک جو اس وقت پوری دنیا میں مظبوط جمہوری جماعت اور غلبہ اسلام کے لیے اپنا بھر پور کردار ادا کرتے دکھائی دیتی ہے۔اس تحریک کے چھٹے امیر کی حیثیت سے 18اپریل 2024ء کو کراچی سے تعلق رکھنے والے سر گرم اور جواں جذبہ،جرت و ہمیت کا پیکر حافظ نعیم الرحمن نے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا،بلا شبہ یہ ایک بڑی ذمہ داری ہے اس ذمہ داری کا حلف اٹھاتے میں نے اکثر امرائے جماعت کو آبدیدہ اور غم زدہ دیکھا یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر اس ذمہ داری کو خلوص اور احساس کے ساتھ نہ نبھا سکا تو آخرت میں اللہ کی بارگاہ میں کیا منہ دکھائوں گا؟ یہ جماعت اسلامی کی تنظیمی ڈھانچے کی خوبصورتی اور احساس ذمہ داری کا بین ثبوت ہے ۔
جماعت اسلامی کے مرکزی ہیڈ کواٹر منصورہ لاہور میں پر وقار تقریب کی حلف برداری میں مجھے بھی جانے کا موقع ملا جب امیرجماعت کے انتخاب کا مرحلہ آیا جو ہر 5 سال بعد آتا ہے اس میں کوئی امیدوار نہیں ہوتا اور ہر رکنِ جماعت اپنے امیر کو منتخب کرنے کے لیے خفیہ رائے دہی کے ذریعے ووٹ ڈالتے ہیں نہ اس میں کنوینسنگ ہوتی ہے اور نہ باہم مشورہ کیا جاتا ہے اور نہ ہی کوئی اس ذمہ داری کو حاصل کرنے کی خواہش ظاہر کر سکتا ہے جو خواہش کنوینسنگ ظاہر کرتا دکھائی دیا وہ دستوری لحاظ سے نا اہل قرار دیا جاتاہے یہی وجہ ہے کہ ہر 5سال بعد خفیہ بیلٹ کے زریعے امیر جماعت منتخب ہوتا ہے اب کچھ سالوں سے ناظم انتخاب مرکزی شوری کے مشورے سے نئے ارکان کی رہنمائی کے لیے 3نام دے دیتے ہیں ان ناموں کے علاوہ بھی کسی کو ووٹ دیا جا سکتا ہے جسے وہ اہل سمجھتا ہو اس بار انتخاب سے قبل مرکزی شوری میں 3نام جن میں سراج الحق،لیاقت بلوچ اور حافظ نعیم الرحمن کے نام دیے تھے مجھے اندازہ نہیں تھا کہ اس بار ارکان جماعت حافظ صاحب کو امیر جماعت منتخب کریں گے میں سراج الحق کو تیسری بار امیر جماعت ہوتا دیکھ رہا تھا مگر رزلٹ اس کے برعکس آیا بہر حا ل ارکان جماعت نے ملکی حالات کو سامنے رکھتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن کو اپنا امیر منتخب کرلیا یہ بھی جماعت اسلامی کے لیے بہت بہتر فیصلہ ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کراچی کی عوام کو جس طرح جگایا اور جس انداز میں وہاں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کو نکیل ڈالی ہے بلا شبہ یہ انہی کا کارنامہ بلکہ میں اسے جہاد سے کم نہیں سمجھتا ان کی چند سالوں کی شاندار ورکنگ نے کراچی کے علاوہ پورے ملک میں مقبول ترین لیڈر کے طور پر منوایا ہے حافظ نعیم الرحمن نے کراچی میں بلدیاتی انتخابات سے لے قومی انتخابات تک پورے جوش او ر ولولے کے ساتھ کام کیا جماعت کے پیغام کو ہر فرد تک پہنچایا کراچی کے عوام کے حقوق کی جنگ لڑی کراچی کی عوام کا کوئی مسئلہ ہوا ان کے لیے دن رات ایک کردیا بلدیاتی انتخاب کی تاریخی کامیابی کے بعد میئر کراچی کی سیٹ حافظ صاحب کا حق تھا مگر سندھ کے وڈیرے ا ور جاگیر دار ووٹرز کو خریدنے میں کامیاب ہو گئے اور دھاندلی، ہٹ دھرمی اور بدمعاشی اور ڈھٹائی سے کام لیتے ہوئے میئر کراچی پیپلز پارٹی کا بنا دیا گیا پورے ملک کی عوام چیختی رہی اہل کرچی احتجاج کرتے رہے مگر کسی کی نہ سنی گئی ۔
ملک کی ہر دل عزیز شخصیت حافظ نعیم
الرحمن جماعت اسلامی کراچی کا مئیر تو نہ بن سکا مگر سید ابو اعلی مودودی کی تحریک کا سر براہ بن گیا اللہ نے اس کو عزتوں اور رفعتوں کی بلندیوں پر سوار کردیا حافظ نعیم الرحمن نے تقریب حلف برداری میں اپنے عہدے کا حلف اٹھایا تو ان کی زبان حلف کے الفاظ بولنے میں ساتھ نہیں دے رہی تھی کیونکہ وہ اس بڑی ذمہ داری کے حصول کا خواہش مند نہ تھا مگر مجبور تھا کہ ارکا جماعت نے منتخب کردیا ہے اب یہ بھاری ذمہ داری ادا کرنا پڑے گی کیونکہ اطاعت نظم بھی بڑی اہم چیز ہے بانی جماعت سید ابو اعلی مودودی اللہ ان کی قبر مبارک پر کروڑوں رحمتوں کا نزول فرمائے انہوں نے 84سال قبل اتنی خوبصورت اور منظم جماعت کی بنیاد رکھی جس نے لاکھوں انسانو ں کی حقیقی رہنمائی بہترین تربیت قرآن سے لگن خدمت خلق کا جذبہ جہاد اور سب سے بڑھ کر اطاعت نظم اور دستور کا پابند کیا بہترین تربیت اور لٹریچر نے ان کے اند انقلاب بر پا کردیا یہی دو چیزیں کارکنان جماعت کو دوسری جماعتوں سے منفرد رکھتی ہے سابق امرائے جماعت میاں طفیل محمد، قاضی حسین احمد،سید منور حسن اور سراج الحق نے اپنے دور امارت میں خوب کام کیااللہ ان کی قربانیوں کو قبول فرمائے وقت اور صلاحیت تحریک کو وقف کرنے پر بہترین اجر سے نوازے حافظ نعیم الرحمن نے اپنے حلف کے بعد پر جوش اور پر مغز خطاب کیااور جماعت سے توقع کی کہ وہ پوری طرح میرا ساتھ دے گیں انہوں نے کہا امیر جماعت اکیلا کچھ نہیں ہے آ پکا ساتھ ہوگا تو انشاء اﷲ پورے ملک میں بڑی تبدلی لائیں گیں۔ انہوں نے کہا کہ پورا پاکستان ہمارا حلقہ ہوگا اور ہم اس میں غلبہ دین کے لیے کام کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ آخرت کی کامبیابی سمجھتے ہوئے ہر کارکن اپنے وقت اور مال کی قربانی دے گا اس کے نتیجے میں انشاء اﷲ آنے والے انتخابات میں جماعت اسلامی کے علاوہ عوام کے پاس کوئی دوسرا آپشن نہیں ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں