حج،خواتین کیلئے شوہر یا والدین سے اجازت لازمی قرار

اسلام آباد(بیوروچیف) وزارت مذہبی امور نے کہا ہے کہ خواتین اپنے شوہر یا والدین کی اجازت کے بغیر حج کرنے کیلئے نہیں جا سکتیں۔وزارت کے مطابق رواں برس سعودی حکومت نے پاکستان کو مجموعی طورپر ایک لاکھ 79 ہزار 210 عازمین حج کا کوٹہ دیا ہے، اس میں تقریبا 89ہزار 602لوگ سرکاری سکیم کے تحت حجاز مقدس کا سفر کریں گے جبکہ باقی لوگ نجی ٹور آپریٹرز کے ذریعے حج کی سعادت کیلئے روانہ ہوں گے۔ 2025کی حج پالیسی دستاویز کے مطابق اسلامی نظریاتی کونسل (سی آئی آئی) کی جانب سے مقرر کردہ شرائط کے تحت خواتین اکیلے حج کیلئے سعودی عرب کا سفر کر سکتی ہیں۔دستاویز کے مطابق اسلامی نظریاتی کونسل کے 6 اور 7 جون 2023 کو منعقد ہونے والے اجلاس میں کئے گئے فیصلے کے مطابق خاتون (بغیر محرم) کو ان شرائط کے ساتھ حج کی اجازت دی جائے گی کہ اسے اس کے والدین نے اجازت دی ہو اور شادی شدہ ہونے کی صورت میں اس کے شوہر نے اجازت دی ہو۔اس کے علاوہ کونسل کی جانب سے بتائی گئی شرط کے مطابق خاتون قابل بھروسہ خواتین حجاج کے گروپ کے ساتھ سفر کر سکتی ہے جبکہ اس کی عزت کو کوئی خطرہ نہیں نہ ہو۔یاد رہے کہ ماضی میں پاکستانی خواتین حج کیلئے اکیلے سعودی عرب نہیں جا سکتی تھیں لیکن 2021میں سعودی حکومت نے حج اور عمرہ کیلئے خواتین کے اکیلے سفر کرنے پر عائد پابندی ہٹا دی تھی اور اقدام کو سعودی سیاسی قیادت کی جانب سے ملک میں خواتین کے حقوق کی صورتحال کو بہتر بنانے کی مہم کا حصہ قرار دیا تھا۔دستاویز میں مزید کہا گیا تھا کہ 12سال سے کم عمر بچے حج پر نہیں جا سکتے جبکہ سعودی عرب کی جانب سے منظور شدہ ویکسین حجاج کیلئے لازمی قرار دی گئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں