61

حقائق جان کر جیو …

تحریر… رخشندہ چوہد ری
کیا شہدا کے ورثاء اور پاک فوج کے غازیوں کو باعزت زندگی گزارنے کا کوئی حق نہیں؟
غلط فہمیاں اور نفرت پھیلانے والے مٹھی بھر افراد کے ذریعے گمراہ کن پراپیگنڈہ کیا وطن عزیز کی خدمت ہے اور اس نفرت انگیز پراپیگنڈہ سے کس کو فائدہ پہنچانے کی کوشش ہو رہی ہے؟
کیا ملک وقوم کی حفاظت اور اندرونی بیرونی سازشوں کو کچلنے والے منظم ادارہ کے افراد کو سکون سے رہنا بھی ہمیں برداشت نہیں آخر کیوں!
ڈیفنس ہائوسنگ اتھارٹی کے حوالے سے حقائق اور منفی پراپیگینڈہ کا تجزیہ ضروری ہے۔
ڈیفنس ہائوسنگ اتھارٹی عسکری اداروں کیلئے اپنی خدمات سر انجام دیتی ہے۔ اس کا قیام ریٹائرڈ فوجیوں اور شہدا کے لواحقین کیلئے زندگی گز ارنے کا مناسب ماحول کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔
ڈی ایچ اے پارلیمان کی منظوری سے شہدا، جنگ میں زخمی ہونیوالے فوجیوں، معذوروں اور دیگر سپاہیوں کی فیملیوں کے اخلاقی، سماجی اور معاشی تحفظ کیلئے قائم کی گئی تھی اور بدستور اس مشن پر عمل پیرا بھی ہے۔
ڈی ایچ اے 75 سے 80 فیصد شہدا کے لواحقین، جنگی محاذوں پر زخمی ہونیوالوں، حادثاتی طور پر ڈیوٹی کے دوران وفات پانے والے فوجیوں کیلئے رہائش سمیت دیگر سہولتیں فراہم کر رہا ہے۔
ڈی ایچ اے ملکی معیشت پر بوجھ بننے کی بجائے سالانہ کروڑوں روپے کی بچت کرتا ہے۔ فوجیوں کی ویلفیئر کے لیے متعدد خدمات سر انجام دیتے ہوئے ڈی ایچ اے تمام طرز کے ٹیکس ادا کرتا ہے اور گزشتہ پانچ سال میں 57ارب کی خطیر رقم ٹیکس کی مد میں سرکاری خزانے میں جمع کروا چکا ہے ڈی ایچ اے میں ملازمت کرنے والے افراد میں 35 فیصد ریٹائرڈ فوجی جبکہ 65 فیصد سویلین افراد ہوتے ہیں۔ ڈی ایچ اے میں 95 فیصد زمین، کاروبار اور خدمات سویلین لوگوں کی ملکیت ہے۔
دیگر کارپوریٹ سیکٹر کی کمپنیوں کی طرح آڈٹ فرمز ڈی ایچ اے کا بھی باقاعدہ آڈٹ کرتی ہیں۔ درحقیقت DHAکے حوالے سے منفی پراپیگنڈہ کا مقصد دفاعی اداروں کو تنقید بنانا ہے آخر کیوں چند گمراہ لوگ فوج سے بغض میں اندھے ہوچکے ہیں، جب بھی ریاست مخالف عناصر کو لاکھ کوششوں کے باوجود پاک فوج کے انتظامی ڈھانچے میں کوئی جھول نظر نہیں آتی، کوئی کرپشن نظر نہیں آتی، کوئی بے ضابطگی دکھائی نہیں دیتی تو پھر کبھی DHA اور کبھی فوج کے دیگر ذیلی اداروں کو نشانہ بنا کر اپنے آقائوں کو خوش کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور بھڑاس نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔
شاید صرف پاک فوج کیخلاف بات کرنا اور DHAکو نشانہ بنانا ہی انکو دیا جانیوالا شرمناک ایجنڈا ہے۔ ایسے افراد سے گزارش ہے کہ ملک سے وفا کریں کسی مخصوص ایجنڈا کیلئے استعمال نہ ہوں، خدارا! اس ملک اور قوم پر رحم کریں آزادی کی اہمیت کو سمجھیں اور اسکی قدر کریں اپنے ضمیر کو جگائیں، سازشوں کا حصہ نہ بنیں اور اگر سیاسی مقاصد حاصل کرنا ہیں تو پھر اس جنگ میں پاک فوج کو مت گھسیٹیں اور نہ ہی DHA جیسے شفاف پراجیکٹ کو اپنی سیاست کی نظر مت کریں۔ بلکہ اپنی قابلیت کا عملی مظاہرہ کرتے ہوے اور عمل کو بنیاد بنا کر میدان سیاست میں جائیں اور اگر آپ واقعی ملک وقوم سے مخلص ہیں تو اسے عمل سے ثابت کریں۔
عمل سے زندگی بنتی جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
یاد رہے ایسی سٹیٹ آف دی آرٹ سوسائیٹیز صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا کے دیگر ممالک میں بھی قائم ہیں جنکا اولین مقصد شہدا اور غازیوں کے لواحقین کی زندگیوں کو بہتر بنانا ہے۔ لیکن افسوس کہ ہمارے ہاں ہر اچھے منصوبہ اور کام کی قدر نہیں ہوتی اور سیاست کے چکر میں سب اچھے کاموں کا بھی بیڑہ غرق کردیا جاتا ہے جو افسوسناک ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں