3

حملہ آورخودکش دھماکے سے قبل کیا کچھ کرتا رہا؟

اسلام آباد (بیوروچیف) اسلام آباد کی مسجد و امام بارگاہ میں ہونے والے خودکش دھماکے کی تحقیقات جاری ہیں اور سنسنی خیز انکشافات سامنے آ رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق خودکش حملہ آور نے راستے میں 2اور ہال کے اندر 6گولیاں چلائیں، مسجد کے ہال میں جا کر خود کش دھماکا کیا، حملے میں 4کلو گرام بارودی مواد استعمال کیا گیا۔ذرائع کا بتانا ہے کہ بال بیئرنگ کی تعداد زیادہ تھی، حملہ آور نوشہرہ سے ہی خود کش جیکٹ پہن کر پبلک ٹرانسپورٹ سے اسلام آباد پہنچا، حملے سے قبل قریبی ہوٹل میں تھوڑی دیر بیٹھا اور کھنہ روڈ سے پیدل چل کر مسجد تک پہنچا۔ذرائع کے مطابق حملہ آور نے 2فروری کو اسلام آباد کی مسجد کی ریکی کی، اس سے پہلے خودکش حملہ آور مئی میں افغانستان گیا اور جون میں واپس آیا، افغانستان سے واپس آکر باجوڑ میں نئی موبائل سم ایکٹی ویٹ کی۔یاد رہے کہ 6فروری کو اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں امام بارگاہ و مسجد خدیج الکبری میں خودکش دھماکے میں 33افراد شہید اور 150سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں