69

حکام سی پیک کے 7پاور پلانٹس سے تصیفے کیلئے کوشاں (اداریہ)

18کمرشل بینکوں کیساتھ 1225 ارب روپے کے تاریخی مالیاتی معاہدے کے بعد حکومت پاکستان کے پاس اب 65ارب روپے دستیاب ہیں حکام اس رقم کے ذریعے سی پیک کے تحت لگنے والے 7کوئلہ پر مبنی آزاد بجلی پیدا کرنے والے منصوبوں (IPPs) کے ساتھ تصیفے کے لیے نئے مذاکرات شروع کرنے کی تیاری کر رہے ہیں اس اقدام کا مقصد ملک کے توانائی شعبے کو مستحکم کرنا اور بڑھتے ہوئے گردشی قرضے کو کم کرنا ہے کُل 1225 ارب روپے میں سے 660ارب روپے پاور ہولڈنگ کمپنی کا قرض اتارنے کیلئے رکھے گئے ہیں جبکہ 565 ارب روپے 7چینی کوئلہ پاور پلانٹس 2015 کی پاور پالیسی کے تحت قائم اور 49 ونڈ اور سولر پاور پلانٹس کو ادائیگی کے لیے استعمال ہوں گے ذرائع کے مطابق حکومت چینی پاور پلانٹس سے 170ارب روپے کے لیٹ پے منٹ انٹرسٹ (LPI) کی معافی مانگ رہی ہے بالکل اسی طرح جیسے مقامی آئی پی پیز سے 377 ارب روپے کے سرچارج معاف کروائے گئے تھے ماضی میں یہ مذاکرات تعطل کا شکار تھے کیونکہ چینی کمپنیوں نے سرچارج معاف کرنے سے انکار کر دیا تھا مگر اب رقم دستیاب ہونے کے بعد حکام زیادہ بہتر شرائط پر بات چیت کے خواہاں ہیں سی پیک کے 7کوئلہ پاور پلانٹس کے واجبات اس وقت 320 ارب روپے ہیں جن میں 150 ارب روپے اصل رقم اور 170ارب روپے (LPI) شامل ہیں پہلے ہی 100 ارب روپے ادا کئے جا چکے ہیں جب کل واجبات 420 ارب روپے تھے حکومت اب 170ارب روپے کے LPI کی مکمل معافی چاہتی ہے تاکہ صرف 150ارب روپے اصل رقم کی ادائیگی کی جا سکے۔ دوسری جانب حکومت 49ونڈ اور سولر آئی پی پیز سے بھی مذاکرات کر رہی ہے جن کی مجموعی پیداواری صلاحیت تقریباً 2500 میگاواٹ ہے، کامیاب مذاکرات کی صورت میں حکومت کو 31ارب روپے کا LPI معاف کرایا جا سکتا ہے 49ارب روپے کے اصل واجبات ادا کئے جائیں گے حکومتی حکام نے ان مذاکرات کو مشکل اور پیچیدہ قرار دیا ہے کیونکہ ان میں غیر ملکی اور کثیرالجہتی مالیاتی ادارے بھی شامل ہیں اس کے باوجود بیشتر کمپنیوں نے لچک اور حکومت کی شرائط پر تصیفہ کرنیکی رضامندی دکھائی ہے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا ہے کہ جو کمپنیاں حکومت کی شرائط مانیں گی انہیں LPI کی کٹوتی کے بعد ادائیگیاں کر دی جائیں گی جو نہ مانیں گی ان کے اکائونٹس کا فرانزک آڈٹ بھی کیا جا سکتا ہے حکومت پہلے ہی مقامی آئی پی پیز اور سرکاری پاور پلانٹس کے تمام واجبات ادا کر چکی ہے جبکہ ایٹمی اور پن بجلی کے منصوبے جو پہلے ہی کم لاگت والے ہیں اس عمل سے باہر ہیں توانائی شعبے میں مالیاتی نظم وضبط اور اصلاحات کے حکومتی ایجنڈے میں سی پیک کوئلہ پاور پلانٹس اور رینیوایبل آئی پی پیز کے ساتھ جاری یہ مذاکرات فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں ان کی کامیاب تکمیل سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی گردشی قرضے میں کمی اور توانائی کے شعبے میں پائیدار بہتری کیلئے ایک بڑا سنگ میل ہو گی،، موجودہ حکومت نے توانائی شعبے کے گردشی قرضے میں کمی کیلئے پلان مرتب کیا ہے اور اس سلسلے میں بجلی کمپنیوں اور پاور پلانٹس سے مذاکرات اور انہیں ادائیگیاں کرنے کیلئے 18کمرشل بینکوں کے ساتھ 1225 ارب روپے کے تاریخی مالیاتی معاہدے کیلئے جا چکے ہیں اور حکومت اب 7کوئلہ پر مبنی آزاد بجلی پیدا کرنیوالے منصوبوں (IPPs) کے ساتھ تصیفے کیلئے نئے اور فیصلہ کن مذاکرات کرنے کیلئے تیار ہے جس کا بڑا مقصد توانائی کے شعبے کی بہتری اور ملک بھر میں بجلی کے نظام کو بہترین طریقہ سے چلانا ہے! سی پیک منصوبہ کے تحت بجلی کے پلانٹس کو ادائیگی کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں حکومت کی کوشش ہے کہ اس حوالے سے تمام معاملات کو حل کرنے کیلئے تمام تر وسائل کو بروئے کار لایا جائے،، بلاشبہ شہباز حکومت اپنی بہترین انتظامی صلاحیتوں کو استعمال کر کے دیگر شعبوں کی طرح توانائی کے شعبے کو بھی پائیدار بنیادوں پر درست کرنے پر گامزن ہے اور اس حوالے سے حکومت کی کوشش ہے کہ سی پیک کے 7پاور پلانٹس سمیت بجلی پیدا کرنے والے دیگر پلانٹس (IPPs) سے بھی مذاکرات کر کے کسی حتمی نتیجہ پر پہنچا جائے تاکہ ملک میں توانائی کے شعبے کو مشکلات سے نکالا جا سکے اور صنعتوں’ کاروباری اداروں اور عام بجلی صارفین کو کم نرخوں پر بجلی فراہم کرنے میں مدد مل سکے اگر حکام کے سی پیک کے کوئلہ پر چلنے والے 7پاور پلانٹس کے ساتھ مذاکرات نتیجہ خیز برآمد ہوئے تو اس کے ملک کی صنعتوں پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے اس وقت ملک کا سب سے اہم مسئلہ بجلی کے نرخوں میں کمی کا ہے اور یہ اسی صورت ممکن ہے جب ملک میں کم نرخوں پر وافر مقدار میں بجلی فراہم ہو اور ایسا اسی صورت ممکن نظر آتا ہے جب حکومت کے ساتھ ساتھ پاور پلانٹس مالکان بھی حکومت کے ساتھ تعاون کیلئے تیار ہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں