حکومت الیکٹرک گاڑیوں سے تمام ڈیوٹی کو ختم کرے

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) سینئر سیاستدان رانا زاہد توصیف نے حکومت کی جانب سے الیکٹرک گاڑیوں کیلئے چارجنگ اسٹیشنز کیلئے بجلی 45فیصد سستی کرنے کے اعلان کو نہایت مضحکمہ خیز قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں الیکٹرک گاڑیوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے اس کی بڑی وجہ الیکٹرک گاڑیوںکی پاکستان میں امپرٹ پر کسٹم’ سیلز ٹیکس وغیرہ کی مد میں ڈیوٹیز ناقابل برداشت ہیں جبکہ پاکستان میں ایسی گاڑیاں تیار نہیں ہو رہیں لہذااگر حکومت ملک میں آلودہ ماحول سے نجات کیلئے الیکٹرک گاڑیوں کا رجحان چاہتی ہیں تو سب سے پہلے تمام ڈیوٹی کو ختم کیا جائے اور ایندھن سے چلنے والی گاڑیوں کی درآمد پر ٹیکس بڑھایا جائے’ نیز مقامی سطح پر تیار ہونے والی پٹرول ‘ ڈیزل وغیرہ پر چلنے والی گاڑیوں کو بجلی پر شفٹ کرنے کیلئے کمپنیوںکو وقت دیا جائے یہاں تو الٹی گنگا بہہ رہی ہے الیکٹرک گاڑیوںکی درآمد پر انتہائی ڈیوٹی لگانے کا مقصد یہی ہے کہ اس کی امپورٹ نہہو سکے انہوںنے کہا کہ فیل اسٹیشن کی جگہ الیکٹرک پمپ لگانے اور بجلی میں رعایت دینے سے کیا فائدہ کہ اگر ملک میں الیکٹرک گاڑیاں ہی نہہوں عوام کو حکومتی پالیسیوں کی کچھ سمجھ نہیں آ رہی ۔ رانا زاہد توصیف نے کہا کہ پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات پرچلنے والی گاڑیوں کے خاتمہ کیلئے ضروری ہے کہ الیکٹرک گاڑیوںکی امپورٹ کو ڈیوٹی فری کیا جائے اور پٹرول پر چلنے والی تمام گاڑیوں کی درآمدات پر ٹیکس کی شرح بڑھائی جائے نیز اس ضمن میں عوام میں آگاہی مہم شروع کی جائے الیکٹرک وہیکلز کے فروغسے ماحولیاتی آلودگی میں نمایاں کمی ہو گی مگر اس ضمن میں حکمرانوں کو سوچ و بچار سے کام لیتے ہوئے سب سے پہلے الیکٹرک گاڑیوں کی امپورٹ پر ہر طرح کا ٹیکس ختم کرنا ہو گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں