3

حکومت ریلوے کے ریٹائرڈملازمین اور ٹی اے کی ادائیگی کیلئے 20ارب فوری دیں

فیصل آباد(سٹاف رپورٹر) پریم یونین کے چیئرمین ضیا الدین انصاری، صدر شیخ محمد انور، سیکرٹری جنرل خیر محمد تنیو،سنیئر نائب صدر عبدالقیوم اعوان، چیف آرگنائزر خالد محمود چوہدری، اسسٹنٹ چیف آرگنائزر جنید خرم نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف دیگر وفاقی اداروں کی طرح ریلوے کی تنخواہوں اور پنشن کو بھی حکومت اپنے ذمہ لیں۔ اپریل 2023سے ریٹائرڈ ملازمین کے واجبات اور2019سے ٹی اے کی عدم ادائیگی کے لیے صرف 20ارب ادا کر دیں تو ریلوے ایک سال کے بعد منافع بخش ادارہ بن سکتاہے۔ جس کا تمام کریڈٹ وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی کا ہوگا۔ پریم یونین کے راہنماں نے کہا ہے کہ ریلوے پاکستان کا سب سے بڑا رفاہی اور فلاحی ادارہ ہے۔ ماضی قریب میں ریلوے وزیر سے ملاقات میں ان کے مثبت ویژن اور ریلوے کی بہتری کے لیے ان کی مثبت پلاننگ ریلوے کے لیے خوش آئند ہے۔ پریم یونین کے مطالبہ پر ریلوے میں آپریشنل اور ٹیکنیکل سٹاف کی کنٹریکٹ پر بھرتی کا عمل شروع ہو گیا ہے جس پر پریم یونین وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی اور سی ای او ریلوے محمد عامر بلوچ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کی توجہ گریڈ 16 تک کی پرموشن کے لیے آئی بی کی کلیئرنس سے مستثنی قرار دینے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے بھی جلد از جلد نوٹیفیکیشن جاری کیا جائے تاکہ تاخیر کا شکار پرموشن کا عمل مکمل ہو کر ملازمین کو ان کا حق مل سکے۔انہوں نے کہا ہے کہ تنخواہوں اور پنشن وفاقی حکومت اپنے ذمہ لے لیں اور ریٹائرڈ ملازمین کے واجبات کی ادائیگی اور 2019 سے ٹی اے کی عدم ادائیگی کے لیے وزیراعظم بھی 20 ارب ریلوے کو یکمشت دے دیں تو ریلوے موجودہ حکومت کے ماتھے کا جھومر ادارہ ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں