50

حکومت معاشی استحکام کیلئے کامیابی سے ہمکنار (اداریہ)

وزیراعظم نے کہا ہے کہ ہم نے آٹھ دس ماہ میں سخت اور مشکل فیصلے کئے مگر آگے بھی سفرآسان نہیں’ اپنے پائوں پہ کھڑے ہو چکے ہیں’ اب معاشی نمو کیلئے آگے بڑھنا ہو گا پاکستان دوبارہ ٹیک آف کی پوزیشن پر آ چکا ہے پاکستان نے ایک سال میں اندھیروں سے اجالوں کی طرف سفر کیا میرا بس چلے تو فی الفور 15فی صد ٹیکس کم کر دوں اور انشاء اﷲ یہ وقت بھی آئے گا، حکومت بڑے پیمانے پر نجکاری کی طرف جا رہی ہے معیشت استحکام حاصل کر چکی ہے اور ملک ترقی کی جانب گامزن ہے پاکستان کو مضبوط اور اقوام عالم میں عظیم ملک بنائیں گے اب سرمایہ کاروں صنعتکاروں کی مشاورت سے پالیسیاں بنیں گی یہ پہلا موقع ہے جب سیاسی ودیگر ادارے ساتھ مل کر دن رات کام کر رہے ہیں حکومت کا ایک سال مکمل ہونے پر ”یوم تعمیر وترقی” سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پیرس کانفرنس میں آئی ایم ایف کی ایم ڈی نے کہا کہ اب وقت گزر گیا ہے پروگرام ممکن نہیں’ پاکستان کے لیے اسلامک ترقیاتی بینک سے ایک ملین ڈالر مانگے لیکن انہوں نے کہا کہ ہمارے لئے دینا ممکن نہیں ہم اس وقت اسمبلی میں گئے اور بجٹ ترمیم پیش کی اس طرح سے پاکستان ڈیفالٹ سے بچ گیا تنخواہ دار طبقے نے پاکستان کی معیشت کو دوبارہ پائوں پر کھڑا کرنے کیلئے بساط سے بڑھ کر حصہ ڈالا چیئرمین ایف بی آر سے کہا ہے کہ بزنس کمیونٹی کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونی چاہیے سرمایہ کاروں کی بات سنیں سرمایہ کار حکومت کے ساتھ تعاون کریں اور حکومت کے ساتھ مل کر ملک کو معاشی طور پر مستحکم بنائیں انشاء اﷲ ہماری حکومت کے دور میں تعمیر وترقی کے مزید راستے کھلیں گے” وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت کی ایک سالہ کارکردگی واقعی تعریف کے قابل ہے انہوں نے ایک سال میں ایسے انقلابی فیصلے کئے جن سے معیشت مضبوط ہوئی برآمدات اور ترسیلات زر میں اضافہ ہوا پاکستان سٹاک ایکسچینج کا خطے کی سب سے تیزی سے بڑھنے والی مارکیٹ بننا تاریخی امر ہے وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں بہتر معاشی پالیسیوں کے تسلسل سے عام آدمی کے حالات بہتر ہوئے مہنگائی میں کمی آئی برآمدات ایک سال میں 27.72 ارب ڈالر سے بڑھ کر 30.64 ارب ڈالر تک پہنچ گئی نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کا افتتاح ہوا جس سے پاکستان کا عالمی برادری میں وقار بلند ہوا مایوسی کی بادل چھٹ چکے ہیں معیشت کے تمام عشاریئے مثبت ہیں آئندہ سال میں مزید بہتری کی امید ہے غیر ملکی سرمایہ کاری میں ریکارڈ اضافہ موجودہ حکومت پر اعتماد کا مظہر ہے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری آ چکی ہے توانائی شعبے سمیت دیگر سرکاری شعبہ جات میں اصلاحات کے ثمرات ملنا شروع ہوئے پاکستان کو شنگھائی تعاون تنظیم سربراہان اجلاس کی میزبانی بھی اسی حکومت کے اقتدار میں ملی سرکاری ونجی سطح پر لاکھوں ڈالر سرمایہ کاری کے معاہدے ہوئے چائنہ’ سعودی عرب’ قطر’ آذربائیجان سمیت دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات میں بہتری آئی شرح سود اور کرنٹ اکائونٹ خسارے میں کمی آئی بی آئی ایس پی مستحقین کیلئے مالی امداد میں اضافہ کیا گیا 27ہزار ٹیوب ویلز کی سولر پر منتقلی بھی حکومت کا بڑا کارنامہ ہے، وزیراعظم نے وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالتے ہی یہ عزم کیا تھا کہ وہ ملک کو دیوالیہ ہونے کے خطرے سے نکال کر اسے بہتری کی راہ پر گامزن کریں گے اور انہوں نے اپنا وعدہ پورا کر دکھایا ہماری برآمدات مصنوعات عالمی منڈیوں میں مسابقت کی صلاحیت کھوتی چلی جا رہی تھی روز افزوں تجارتی خسارے کے سامنے بند باندھنا محال نظر آتا تھا زرمبادلہ کے گھٹتے ہوئے ذخائر اور ڈالر کی بے لگامی کے چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے بظاہر ایک طویل مدت درکار تھی’ آئی ایم ایف سے نئے معاہدے کیلئے معاشی نظام میں اصلاحات کے سخت فیصلے ناگزیر تھے لیکن ان پر عملدرآمد عوامی مشکلات میں مزید اضافے کے پیش نظر نہایت تکلیف دہ تھا تاہم محض گیارہ ماہ کی مدت میں ان تمام حوالوں سے حالات میں نمایاں بہتری کا ظہور اور معیشت کی بحالی کی راہ پر اس طرح گامزن ہو جانا کہ تمام غیر جانبدار عالمی تجریاتی ادارے اس کا اعتراف کر رہے ہیں’ شہباز حکوت کی بہتر کارکردگی کا واضح ثبوت ہے، گیارہ ماہ کی مختصر مدت میں سیاسی انتشار’ دہشت گردی اور ریاستی اداروں کے اندر جاری کشمکش کے چیلنجوں کے باوجود موجودہ حکومت کی یہ کارکردگی یقینا بہت خوش آئند ہے اور اگر تمام عناصر اپنے اختلافات کے حل کیلئے باہمی افہام وتفہیم کا راستہ اپنائیں تو بحرانوں سے انشاء اﷲ بہت جلد نجات مل سکتی ہے اور ملکی ترقی وخوشحالی کا سفر مزید تیز ہو سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں