50

حکومت پائیدار معاشی ترقی کے ایجنڈے پر عمل پیرا (اداریہ)

وزیرخزانہ وسینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت پائیدار ترقی کیلئے بنیادی اصلاحات کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے کرپٹو کرنسی کے قواعد بنانا اسٹیٹ بینک کا اختیار’ کھلے ذہن سے غور کرنا چاہیے پاکستان بنکنگ سمٹ2025 سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا بینکنگ سیکٹر کا قومی معیشت میں اہم کردار ہے بینکنگ سیکٹر نے ٹیکس ادائیگی میں تیل وگیس کے شعبے کو پیچھے چھوڑ دیا ہم نے حکومت کو 30ارب روپے جمع کر کے دیئے انہوں نے کہا بینکنگ سیکٹر ملک میں دستاویزی معیشت کے فارمولے پر کام کرتا ہے ملکی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے صوبائی اسمبلیوں سے زرعی ٹیکسوں سے متعلق بلوں کی منظوری اہم پیشرفت ہے حکومتی اخراجات میں کمی کیلئے رائٹ سائزنگ پالیسی پر عملدرآمد جاری ہے محمد اورنگزیب نے کہا معاشی ترقی کیلئے برآمدات کا فروغ ضروری ہے ہر سیکٹر کو برآمدات میں حصہ ڈالنا ہو گا سرمایہ کاری کا فروغ حکومت کی ترجیح ہے پی آئی اے کو نجکاری کے لیے دوبارہ مارکیٹ میں لائیں گے، پاکستان کے اندرونی وبیرونی کھاتوں میں بہتری آئی ہے مالی سال 2025ء کے ابتدائی 7ماہ میں کرنٹ اکائونٹ سرپلس ریکارڈ ہوا ہے افراط زر اور شرح سود میں کمی ہوئی ہے ہم اسٹرکچرل اصلاحات کر رہے ہیں فیس لیس اسیسمنٹ کے باعث کرپشن میں 90فی صد کمی ہوئی صوبائی وزراء خزانہ کے ساتھ زرعی اصلاحات پر عملدرآمد کا جائزہ لیں گے پالیسی کی سطح پر ایڈوائزری بورڈ کا قیام عمل میں لائیں گے 3ڈسکوز کی نجکاری شروع ہونے کو ہے، پبلک فنانس کیلئے حکومتی اخراجات کم کرنے کے اقدامات کر رہے ہیں، موسمیاتی تبدیلی پر دھیان دیئے بغیر پائیدار معاشی ترقی نہیں ہو گی ہم نے 10سالہ شراکت داری میں 6تھمیز دی ہیں جن میں 4موسمیاتی تبدیلی پر اور 2مالیات پر کام ہو رہا ہے ہمیں برآمداتی معاشی پیداوار پر انحصار نہیں کرنا تمام کے تمام شعبوں کو برآمدات میں حصہ ڈالنا ہو گا،، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ ہر ملک کی معاشی ترقی کیلئے بنیادی اصلاحات کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہونے کا عزم قابل تعریف ہے وزیر خزانہ کی قیادت میں معاشی ٹیم کارکردگی اور پالیسیاں کامیابی سے ہمکنار ہو رہی ہیں 2018ء تا 2024ء کے عرصہ پر محیط غیر یقینی صورتحال اور بدنظمی کے باعث جب ملک دیوالیہ ہونے کی دہلیز پر کھڑا تھا اور جیسی تیسی معیشت چلانے کیلئے قرضوں کا حصول ناممکن دکھائی دے رہا تھا عالمی مالیاتی ادارے کی کڑی شرائط کڑوا گھونٹ سمجھ کر موجودہ حکومت کو مقبول کرنا پڑیں تاہم انہیں پُر تاثیر بنانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی گئی اس کی معاشی اصلاحات کا کام ابتدائی مرحلے میں ہے لیکن اب تک کے نتائج حوصلہ افزاء اور معاشی اشاریے مثبت دکھائی دے رہے ہیں ایف بی آر میں اصلاحات لانے پر کام جاری ہے ٹیکس اتھارٹی کی کارکردگی بہتر بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے تاکہ لوگ ٹیکس کلچر کی طرف مائل ہوں اس حوالے سے واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف 2024-25ء کے وفاقی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے اور مینوفیکچرنگ کے شعبے پر عائد ٹیکسوں کی شرح میں ہونے والے اضافے پر تشویش ظاہر کر چکے ہیں جس سے عام تنخواہ دار آدمی کی قوت خرید میں مزید کمی آئی ہے یہی بات مینوفیکچرنگ کے شعبے میں دیکھنے کو ملی ہے جہاں پیداواری لاگت بڑھنے سے مصنوعات کی قیمتیں نہ صرف تعمیرات’ ملبوسات’ ادویات اور بعض دوسری ضروریات پر اثرانداز ہوئی ہیں عالمی مارکیٹ امیں ان کی برآمدات کو نئے چیلنجوں کا سامنا ہے اس میں کچھ شک نہیں کہ آٹھ ماہ کے دوران روزمرہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی آئی اور غریب کو دو وقت کی دال روٹی نصیب ہوئی بین الاقوامی مالیاتی اداروں خصوصاً آئی ایم ایف’ ورلڈ بینک اور ایشیائی بنک کی نظریں اس وقت پاکستانی معیشت پر مرکوز ہیں قرضوں اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے وہ پاکستان کی مدد کرنے کو آمادہ ہیں وزیرخزانہ ریٹیل سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے شدید مزاحمت کے باوجود پُرامید دکھائی دے رہے ہیں انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ اس اس ترسیلات زر 35ارب ڈالر کے قریب ہو جائیں گی وزیراعظم شہباز شریف آنے والے دنوں میں نجی شعبے کو آگے بڑھتا دیکھنا چاہتے ہیں، حکومت اگلے دو ماہ تک بجلی کی قیمت میں 6 سے 8روپے فی یونٹ کمی کرنے کیلئے کوشاں ہے پاور ڈویژن کے مطابق 2300 ارب روپے کا پاور سیکٹر کا گردشی قرض صفر کر دیا جائے گا آئی پی پیز سے بات چیت کے نتیجے میں 1400 ارب روپے سے زیادہ کی بچت ہو گی اور یہ بچت صارفین کو منتقل کی جائے گی بجلی بلوں پر ٹیکسوں میں کمی کے لیے بھی کام جاری ہے،، موجودہ حکومت کا ملک کو معاشی طور پر مضبوط بنانے کا عزم قابل ستائش ہے بلاشبہ پائیدار معاشی ترقی کیلئے برآمدات میں اضافہ حکومتی اخراجات میں کمی صنعتوں اور عام گھریلو صارفین کیلئے بجلی کے نرخوں میں کمی اشد ضروری ہے۔ حکومت کا غیر منافع بخش سرکاری اداروں کی نجکاری کا فیصلہ بھی وقت کی ضرورت ہے اور اس فیصلے پر جتنی جلد عملدرآمد ہو گا اس کا انتہا ہی ملک کو فائدہ ہو گا وزیراعظم’ وزیر خزانہ اور معاشی ٹیم کی کارکردگی مثالی ہے قوم کو امید ہے کہ ترقی کا اسفر جاری رہے گا اور ایک دن ایسا بھی آئے گا جب ہم قرضوں پر انحصار کے بجائے اپنی معیشت کے بل پر تمام مسائل پر قابو پا لیں گے، انشاء اﷲ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں