اسلام آباد (بیوروچیف) وفاقی حکومت نے معاہدے کے برخلاف سولر سسٹم سے بجلی پیدا کرنے والے صارفین کیلئے بلنگ کے طریقہ کار میں ترمیم کر دی ہے,نئے قواعد کے تحت اضافی سولر پینلز سے پیدا ہونے والی بجلی پر ریلیف مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔اس سلسلے میں صارفین کے کنکشن پر ایکسپورٹ ایم ڈی آئی چیک نافذ کر دیا گیا ہے، جس کے تحت اضافی پیداوار کی بنیاد پر اب کوئی رعایت یا ریلیف نہیں ملے گا۔ منظور شدہ جنریشن لائسنس کے تحت اضافی پینلز لگانے والے صارفین کے ایکسپورٹ یونٹس پر ریلیف ختم کر دیا گیا ہے۔بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ اضافی بجلی کو “صفر” یونٹس کے طور پر ڈکلیئر کیا جائے ، جس کا مطلب ہے کہ نیٹ میٹرنگ پالیسی کے تحت منظور شدہ یونٹس کے علاوہ پیدا ہونے والی اضافی بجلی کا کوئی کریڈٹ نہیں دیا جائے گا۔وفاقی حکومت کے مطابق اس اقدام کا مقصد نظام میں شفافیت اور معاہدے کے اصولوں کی مکمل تعمیل کو یقینی بنانا ہے۔



