9

حکومت کا ویزا عمل محفوظ بنانے کا فیصلہ (اداریہ)

وفاقی حکومت نے ویزا کے حصول میں درپیش مسائل اور مشکلات کو دور کرنے کیلئے نئی پالیسی وضع کرنے کا فیصلہ کیا ہے ان اصلاحات کیلئے وفاقی کابینہ ویزا کلیئرنس رجیم پر کابینہ کمیٹی دیدی ہے وفاقی وزیر قانون وانصاف اعظم نذیر تارڑ کو چھ رکنی کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے یہ کمیٹی ویزا کے عمل کو محفوظ بنانے کیلئے سفارشات تیار کرے گی چودہ روز میں اپنی رپورٹ وفاقی کابینہ کیلئے جمع کرائے گی حکومتی ذرائع کے مطابق ویزا کلیئرنس رجیم کے حوالے سے قائم کی گئی کمیٹی کے ارکان میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی’ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب’ وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک’ سیکرٹری قانون وانصاف اور سیکرٹری داخلہ شامل ہیں حکومت نے حال ہی میں پاکستان کے ویزا اور سفری کلیئرنس نظام میں اصلاحات کے تحت نئے ویزا کلیئرنس سسٹم کی منظوری دی ہے۔ نئے نظام کا مقصد بیرون ملک پاکستانی شہریوں کیلئے ویزا کے حصول کے عمل کو مزید شفاف’ محفوظ اور مؤثر بنانا ہے یہ فیصلہ غیر قانونی ہجرت سفری دستاویزات اور مختلف ممالک کی جانب سے داخلی قوانین میں سختی کے تناظر میں کیا گیا ہے، دوسری جانب پاکستان اور متحدہ عرب امارات میں امیگریشن آسان بنانے کیلئے پری ”امیگریشن کلیئرنس” پر اتفاق کیا گیا جلد باضابطہ معاہدے کا اعلان کیا جائے گا معاہدے کے بعد مسافروں کی امیگریشن پاکستان میں ہی ہو گی امارات میں طویل کاروائی سے نہیں گزرنا پڑے گا ڈومیسٹک مسافروں کی طرح ائیرپورٹ سے باہر نہیں نکل سکیں گے، وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی سے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز وپورٹ سکیورٹی احمد بن لاحج الفلاسی کی سربراہی میں متحدہ عرب امارات کے وفد نے ملاقات کی ملاقات میں پاک یو اے ای تعلقات باہمی تعلقات اور مسافروں کیلئے امیگیشن عمل کو مزید آسان بنانے سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور اس امر پر اتفاق کیا گیا دونوں ملکوں کے درمیان ”پری امیگریشن کلیئرنس” کے حوالے سے باضابطہ معاہدہ کیا جائے گا اس نئے نظام کا ابتدائی طور پر پائلٹ بنیادوں پر کیا جائے گا تو اے ای وفد نے اس اقدام کو دونوں ملکوں کے عوام کیلئے مفید قرار دیتے ہوئے تعاون کے عزم کا اظہار کیا ہے وفد میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن جماعبداﷲ القابی ڈائریکٹر ائرپورٹس حماد سیف المشغونی اور دیگر اعلیٰ حکام شامل تھے،، وفاقی حکومت کا ویزا عمل محفوظ بنانے کا فیصلہ خوٍش آئند ہے اس سے پاکستان سے سفر کرنے والوں کیلئے جدید ترین طریقوں کو استعمال کیا جائے گا جس کا مقصد بیرون ملک جانے والوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنا ہے وزیراعظم نے اس حوالے سے اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کی ہے جو 14 روز میں رپورٹ پیش کرے گی جس کے بعد اس حوالے سے مزید پیشرفت ہو گی،، علاوہ ازیں پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان ”پری امیگریشن کلیئرنس” پر بھی کام کیا جا رہا ہے جس کے تحت متحدہ عرب امارات میں جانے والوں کی امیگریشن پاکستان میں ہی ہو گی اور پاکستانیوں کو متحدہ عرب امارات میں طویل کارروائی سے نہیں گزرنا پڑے گا اس اقدام سے وقت کی بچت کے ساتھ ساتھ جعلی دستاویزات پر سفر کرنا بھی ناممکن ہو گا دونوں ممالک کے حکام نے معاہدہ کے جلد اعلان کا عزم کیا ہے اگر یہ معاہدہ ہو جاتا ہے تو یہ پاکستانیوں کیلئے بہت اہم ہو گا کیونکہ متحدہ عرب امارات جانے والوں کی امیگریشن پاکستان میں ہونے سے ان کو اصل دستاویزات بارے علم ہو گا اور ملک سے باہر جا کر دشواریوں سے محفوظ رہ سکیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں