72

حکومت کا کفائت شعاری اقدامات جاری رکھنے کا فیصلہ (اداریہ)

وفاقی حکومت نے رواں مالی سال میں بھی کفایت شعاری کے اقدامات جاری رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اخراجات قابو میں رکھنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے 3سال سے خالی سرکاری آسامیاں ختم’ نئی کی تخلیق پر پابندی’ ہر قسم کی گاڑیوں کی خریداری پر پابندی ماسوائے ایمبولینسز’ فائر فائٹنگ اور دیگر طبی آلات سے لیس گاڑیاں’ تعلیمی اداروں کے لیے بسیں’ کچرا اٹھانے والی گاڑیاں شامل ہیں وفاق کے ریٹائرڈ ملازمین کیلئے پنشن میں 7فی صد اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا وفاقی کابینہ نے 4ستمبر 2024ء کے فیصلوں پر عملدرآمد جاری رکھنے کی منظوری دی، حکومتی اخراجات پر ملک سے باہر علاج پر پابندی برقرار رہے گی اور حکومتی خرچ پر غیر ضروری بیرونی دوروں پر بھی پابندی جاری رہے گی وزارت خزانہ نے فیصلوں پر عملدرآمد کیلئے وفاقی وزارتوں اور ڈویژنز کو نوٹیفکیشن ارسال کر دیا ہے جس کے مطابق صدر مملکت نے یکم جولائی 2025ء سے وفاقی حکومت کے سویلین پنشنرز مسلح افواج کے ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں اضافے کی منظوری دی ہے،، حکومت کا اخراجات قابو میں رکھنے اور ایسی سرکاری آسامیاں جو سال ہاسال سے خالی پڑی ہیں ان کے بارے میں دوٹوک فیصلہ بہت اچھا اقدام ہے قومی خزانہ کو نقصان پہنچانے والے مسائل سے کئی دہائیوں پہلے فیصلہ کرنا چاہئے تھا تاکہ نقصان سے بچا جا سکتا مگر سابقہ حکومتوں نے مسائل کو حل کرنے کے بجائے اسی طرح چلنے دیا خسارہ ہوتا رہا مگر اس جانب کسی نے توجہ نہیں دی اور آج یہ دن دیکھنا پڑ رہا ہے کہ ہم بیرونی مالیاتی اداروں کے مقروض ہیں ہمارے اندرونی مسائل میں ہر روز اضافہ ہو رہا ہے مگر ہم اس پر کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے کم وبیش 4، 5سال سے عوام یہ سنتے آ رہے ہیں کہ حکومت اپنے اخراجات میں کمی کر کے خزانہ کو نقصان سے بچائے گی مگر سالوں گزر گئے یہ وعدہ صرف وعدہ ہی رہا موجودہ حکومت نے معیشت کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے جو کوششیں کیں ان کے رزلٹ سامنے آ رہے ہیں وزارت خزانہ نے 3 سال سے خالی آسامیاں ختم کر دی ہیں علاوہ ازیں اخراجات پر قابو پانے کیلئے ہدایات جاری کی جا چکی ہیں جس کے بعد محسوس ہو رہا ہے کہ خزانے پر بوجھ کم ہو گا بیرون ملک کے غیر ضروری دوروں اور بیرون ملک علاج معالجہ کے لیے جانے والوں کے سرکاری افسران کیلئے پابندی عائد کی جا چکی ہے جو خوش آئند ہے وزیرخزانہ اورنگ زیب کی پالیسیاں اس وقت درست راہ پر گامزن ہیں امید ہے معیشت کے استحکام کیلئے کامیابیاں حاصل کریں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ کفایت شعاری اقدامات پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے گا تاکہ اس کے نتائج حاصل ہو سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں